الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس کی مخالفت کی ہے جبکہ جماعتِ اسلامی نے بھی صدارتی ریفرنس کے خلاف اپنا مؤقف سپریم کورٹ میں جمع کرادیا۔
تفصیلات کے مطابق جماعتِ اسلامی نے سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس کی مخالفت میں اپنا تحریری مؤقف سپریم کورٹ میں جمع کرایا ہے جس پر الیکشن کمیشن نے جواب جمع کرادیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹ الیکشنز آئین کے تحت ہی منعقد ہوتے ہیں۔
جواب میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ آئین کے آرٹیکلز 59، 219 اور 224 میں سینیٹ الیکشن کا ذکر موجود ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سینیٹ الیکشن کیسے کرانے ہیں، یہ فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنے دیا جائے۔
اپنے جواب میں الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سینیٹ انتخابات پر آئین کے آرٹیکل 226 کا اطلاق ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اپنے جواب میں بھارتی آئین کا بھی حوالہ دیا ہے جبکہ آرٹیکل 226کہتا ہے کہ وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ کے سوا تمام الیکشن خفیہ رائے شماری سے ہوں گے۔
واضح رہے کہ صدارتی ریفرنس کے تحت سینیٹ الیکشنز خفیہ رائے شماری کی بجائے اوپن بیلٹ سے کرانے کی حمایت کی گئی ہے تاہم الیکشن کمیشن اور جماعتِ اسلامی دونوں نے سپریم کورٹ میں اس کی مخالفت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: استعفے دے کر سینیٹ الیکشن کو نہیں روکا جاسکتا۔قمر زمان کائرہ
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








