کراچی: پاکستان بزنس کونسل نے ملک کے بڑھتے ہوئے معاشی چیلنجز کے پیشِ نظر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مطالبہ کیا ہے کہ 3سال کی بجائے 5سالہ فنڈنگ پروگرام کی اجازت دی جائے۔
تفصیلات کے مطابق نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں نئی حکومت معاشی چیلنجز پر قابو پانے کیلئے نئے بیل آؤٹ پیکیج کی کوشش کرے گی، پاکستان بزنس کونسل کا کہنا ہے کہ طویل پروگرام آئی ایم ایف کو توانائی کی بنیادی اصلاحات کی اجازت دے سکتا ہے۔
پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کو خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری یا بندش پر پیشرفت سے مشروط قسط جاری کرسکتا ہے۔ جو سرکاری ادارے مسابقت میں رکاوٹ ہیں، حکومت انہیں بند کرکے معیشت بہتر کرسکتی ہے۔
پی بی سی کے چیف ایگزیکٹو احسان ملک نے آئی ایم ایف کی ریزیڈنٹ نمائندہ ایستھر پیریز روئز کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے اہداف کی فرنٹ لوڈنگ مختصر مدت کے پروگرامز سے ہوتی ہے جو اب تک پاکستان کو پیش کیے جاچکے ہیں۔ آئی ایم ایف کا بڑا اور طویل پروگرام درکار ہے۔
چیف ایگزیکٹو پی بی سی نے کہا کہ 5سالہ پروگرام قرض دہندگان کیلئے ضروری سہولیات فراہم کرسکے گا اور آئندہ پروگرام پاکستان کیلئے گزشتہ پروگرام کے مقابلے میں زیادہ اصلاحات پر مبنی بھی ہوسکتا ہے جبکہ گزشتہ پروگرامز پاکستان میں پائیدار اصلاحات کا باعث نہیں بن سکے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے اصلاحات اس لیے نہیں ہوسکیں کیونکہ مختلف حکومتوں نے سیاسی فیصلے کیے اور اس دوران فیصلہ سازی کی بھی کمی تھی۔ آئی ایم ایف کو اپنا امدادی پیکیج کے از سر نو ڈیزائن کی ضرورت ہے۔نئے پروگرام سے گزشتہ معاشی مسائل کی اصلاح کی جاسکے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








