پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کی جانب سے قومی کرکٹ کے عظیم فاسٹ بولر وسیم اکرم کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11ویں ایڈیشن کا برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کیے جانے کے اعلان نے کرکٹ حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ یہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ماضی میں میچ فکسنگ کے الزامات اور جسٹس ملک محمد قیوم کمیشن کی رپورٹ ایک بار پھر زیرِ بحث آ گئی ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران محسن نقوی نے بتایا کہ وسیم اکرم پی ایس ایل 11 کی تشہیر میں مرکزی کردار ادا کریں گے اور 8 جنوری کو دو نئی ٹیموں کی نیلامی کے موقع پر بھی موجود ہوں گے۔ چیئرمین پی سی بی کے مطابق پی ایس ایل 11 کا ممکنہ آغاز 23 مارچ سے متوقع ہے جبکہ حتمی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ اسی پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا گیا کہ رواں سیزن ملتان سلطانز فرنچائز کو پی سی بی خود چلائے گا اور لیگ کے بعد اس کی نیلامی کی جائے گی۔
وسیم اکرم جنہیں دنیا بھر میں سلطان آف سوئنگ کے نام سے جانا جاتا ہے بلاشبہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے کامیاب ترین باؤلرز میں شمار ہوتے ہیں اور وہ ماضی میں بھی پی ایس ایل سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہ چکے ہیں تاہم ان کی حالیہ تقرری نے ماضی کے ایک حساس باب کو دوبارہ یاد دلا دیا ہے۔
جسٹس قیوم کمیشن: ماضی کا ایک اہم موڑ
سن 2000 میں میچ فکسنگ کے الزامات کی تحقیقات کے لیے جسٹس ملک محمد قیوم کی سربراہی میں قائم کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کئی اہم سفارشات پیش کی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق سلیم ملک کو میچ فکسنگ میں ملوث قرار دیتے ہوئے ان پر تاحیات پابندی عائد کی گئی جبکہ عطا الرحمن پر بھی تاحیات پابندی لگائی گئی۔
وسیم اکرم کے حوالے سے کمیشن نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں اگرچہ شک کا فائدہ دیا جاتا ہے تاہم بعض شواہد ان کی ساکھ پر سوالات ضرور اٹھاتے ہیں۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی تھی کہ انہیں کپتانی سے ہٹایا جائے، ان پر کڑی نظر رکھی جائے اور ان کے اثاثوں کی تحقیقات کی جائیں۔ اسی رپورٹ کے تحت وسیم اکرم پر تین لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔
کمیشن نے مشتاق احمد کے بارے میں بھی سفارش کی تھی کہ انہیں بورڈ یا ٹیم میں کسی اہم ذمہ داری (جیسے کپتانی یا سلیکشن) نہ دی جائے اور ان پر بھی نظر رکھی جائے۔ مشتاق احمد پر بھی تین لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں وہ پاکستان اور انگلینڈ میں مختلف کوچنگ ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ حتیٰ کہ 2010 میں ایک برطانوی اخبار کے مطابق آئی سی سی کے اُس وقت کے چیف ایگزیکٹو ہارون لوگارٹ نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو مشتاق احمد کی تقرری پر خبردار بھی کیا تھا تاہم انگلینڈ کے کوچ اینڈی فلاور نے ان کا دفاع کیا۔
موجودہ فیصلہ اور اٹھتے سوالات
پی سی بی کی جانب سے وسیم اکرم کو پی ایس ایل کا برانڈ ایمبیسیڈر بنانا قانونی طور پر ایک درست فیصلہ ہو سکتا ہے کیونکہ جسٹس قیوم کمیشن کے بعد وسیم اکرم پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں رہی تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پی سی بی کرکٹ میں شفافیت، ساکھ اور اصلاحات کی بات کر رہا ہے ماضی کے متنازع نکات کو نظر انداز کیے بغیر فیصلے کرنا ضروری ہے۔
یہ تقرری ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کرتی ہے کہ کیا پاکستان کرکٹ ماضی کے اسباق سے مکمل طور پر سبق حاصل کر چکی ہے یا کامیابیوں کے بوجھ تلے حساس تاریخ کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے؟
بہرحال وسیم اکرم کی بطور برانڈ ایمبیسیڈر تقرری پی ایس ایل کی عالمی تشہیر میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ فیصلہ پاکستانی کرکٹ کے ماضی اور حال کے درمیان موجود باریک لکیر کو بھی نمایاں کر گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








