اسلام آباد: پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز پر سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ‘لائیو اور ریکارڈ شدہ’ تقاریر اور پریس کانفرنسز نشر کرنے پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ریگولیٹری اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس سے عوامی امن و سکون میں خلل پڑنے کا امکان ہے۔”یہ دیکھا گیا ہے کہ عمران خان اپنی تقاریر/بیانات میں ریاستی اداروں پر مسلسل بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں اور ریاستی اداروں اور افسران کے خلاف اپنے اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے نفرت انگیز تقاریر پھیلا رہے ہیں جو کہ امن و امان کی بحالی کے لیے نقصان دہ ہے۔
پیمرا نے نوٹ کیا کہ ریاستی اداروں اور افسران کے خلاف ”بے بنیاد الزامات، نفرت انگیز، بہتان پر مبنی اور غیر ضروری بیان” نشر کرنا آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 اور سپریم کورٹ آف پاکستان (ایس سی) کے سوموٹو کیس میں سنائے گئے فیصلے کی سراسر خلاف ورزی ہے۔
پیمرا نے مزید کہا کہ عمران خان کی تقریر کے مواد کا تجزیہ کرنے کے بعد دیکھا گیا ہے کہ لائسنس یافتہ افراد نے بغیر موثر ٹائم ڈیل میکنزم کے لائیو نشر کیا جو پیمرا قوانین کی خلاف ورزی اور عدالتوں کے فیصلوں کی نافرمانی ہے۔
مجاز اتھارٹی یعنی چیئرمین پیمرا مذکورہ پس منظر اور وجوہات کے پیش نظر، پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27(a) میں حاصل کردہ اتھارٹی کے تفویض اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے جیسا کہ پیمرا (ترمیمی) ایکٹ 2007 میں ترمیم کی گئی ہے، اس کے ذریعے نشریات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:عمران خان کی گرفتاری حکومت کے لیے بڑا مسئلہ نہیں، وزیر داخلہ
پیمرا نے مزید کہا کوئی ٹی وی چینل کسی بھی صورت میں عمران خان کا بیان، گفتگو، پریس کانفرنس، تقریر براہ راست یا ریکارڈڈ نشر اور ٹیلی کاسٹ نہیں کر سکتا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








