خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں ایف سی (فرنٹیئر کور) ہیڈ کوارٹرز کے قریب ایک شدید بم دھماکا ہوا جبکہ شدید فارئنگ کی آوازیں بھی سنی جا رہی ہیں۔ دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق یہ دھماکا پولیس کی ایک موبائل یونٹ کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا جہاں ایک IED (Improvised Explosive Device) پولیس روٹ پر نصب کیا گیا تھا۔ دھماکے کی جگہ ایف سی ہیڈ کوارٹرز کے قریب ماڈل ٹاؤن سے حالی روڈ کی طرف جانے والی گاڑی کے قریب تھی۔
پشاور کیپیٹل سٹی پولیس آفسر (CCPO) میاں سعید کے مطابق یہ حملہ پولیس پر کیا گیا تھا۔ دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیر لیا اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابھی تک کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گردی کی لہر کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقق جاری ہے۔
دھماکے کی ذمہ داری ابھی تک کسی گروپ نے قبول نہیں کی لیکن خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گردی کی لہر کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقق جاری ہے۔
صوبائی حکام نے واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔یہ واقعہ پاکستان میں جاری دہشت گردی کی لہر کا حصہ لگتا ہے جہاں اس سال اکتوبر میں بھی پشاور میں ایک ملتا جلتا حملہ ہوا تھا جس میں 8 افراد زخمی ہوئے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








