کراچی:اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے سندھ اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے سندھ میں نوابشاہ اور لاڑکانہ میں طلباء کی عزتوں کے حوالے سے ویڈیوز منظر عام پر آرہی تھیں سندھ کی بیٹی پروین رند نے تشدد اور زیاتیوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
اگلے دن نمرتا کماری اور ڈاکٹر نوشین شاہ کی ڈی این اے رپورٹ سامنے آگئی، ڈاکٹر پروین رند نے اپنی ویڈیو میں بتایا کہ ہم خودکشی نہیں کرتے باقاعدہ ہمیں مار کر پنکھوں سے ٹانگ دیا جاتا ہے، جب ہم نے واقعات سے متعلق اسمبلی اجلاس میں قرارداد لانے کی کوشش کی تو ہمیں قرار داد لانے نہیں دی گئی۔
ہمیں کہا گیا جیوڈیشل انکوائری کروائی جارہی ہے،مطلب مارتے بھی ہیں اور کسی کو بات بھی نہیں کرنے دیتے، پی پی چاہتی ہے کہ ہم سندھ کی بیٹیوں کی عزت کیلئے بات نہ کریں، حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ گزشتہ شب نوابشاہ نواب ولی محمد میں جاری بھنڈ برادری کے احتجاج میں شرکت کی کہنا چاہتا ہوں جو صورتحال وہاں دیکھی اس سے زیادہ افسوسناک کوئی نہیں ہوسکتی۔
انہوں نے کہا کہ 48 گھنٹے گزر چکے ہیں بھنڈ برادری کے 5 لاشیں جو اس دھرتی کے بیٹے ہیں انہیں زرداریوں نے قتل کیا، زرداری جو کہ زر کے پجاری ہیں بھنڈ برادری کے لوگوں کو زمین کی خاطر قتل کیا گیا، 50 سال سے زائد عرصے سے زمینیں بھنڈ برادری کی ہیں۔
زمین کیلئے بھند برادری نے 2 ماہ قبل بھی دھرنہ دیا جس میں اہم فیصلے ہوئے، علی حسن زرداری ایم پی اے نہیں ہے لیکن نیب میں اس کا کیس موجود ہے، علی حسن زرداری کے لوگوں نے بھنڈ برادری کے 5 افراد اور ایس ایچ او کو قتل کیا، علی حسن کے لوگوں نے لاشیں تک اٹھانے نہیں دیں۔
سندھ میں فرعونیت اور رعونیت عام ہے، پولیس بھنڈ برادری کے لوگوں کے قتل میں ملوث ملزمان کیخلاف ایف آئی آر کرنے سے انکاری ہے، مقدمہ درج کرانا لواحقین کا آئینی حق ہے، احتجاج کے باعث نیشنل ہائی وے بند ہے ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے پولیس چاہتی ہے کہ علی حسن زرداری کا نام ایف آئی آر میں نہ ڈالا جائے، کیا سندھ میں زرداریوں کو لائسنس ٹو کل دیدیا گیا ہے۔
بلاول زرداری کے معصوم چہرے پر نہ جائیں یہ سندھ کے لوگوں کی لاشوں پر مارچ نکالیں گے سندھ کے حکمرانوں سے ہم جواب ضرور لیں گے۔ ہمارا مطالبہ ہے بھنڈ برداری پر جو ظلم ہوا اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے، مقدمہ درج نہ کیا گیا تو پی ٹی آئی بھنڈ برادری کے ساتھ بھرپور احتجاج کرے گی۔
مزید پڑھیں: بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی نے 6، جے یو آئی نے 4 نشستوں پر میدان مار لیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








