اسلام آباد اجلاس بے نتیجہ ختم، آخر پی آئی اے ملازمین چاہتے کیا ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فائل فوٹو

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) کی نجکاری کے دوران ریٹائرڈ ملازمین کے طبی حقوق کے معاملے پر مزدور یونینز اور ہولڈنگ کمپنی کے درمیان ڈیڈ لاک (اختلافِ رائے) برقرار ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ہولڈنگ کمپنی، نجکاری کمیشن، اسٹیٹ لائف انشورنس اور ریٹائرڈ ملازمین کے نمائندے شریک ہوئے۔

اجلاس میں ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور نجکاری کے بعد ان کے طبی اخراجات سے متعلق معاملات پر غور کیا گیا، تاہم طبی سہولتوں کے مسئلے پر کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا اور ہولڈنگ کمپنی اور ملازمین کی یونینز کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار رہا۔

ہولڈنگ کمپنی نے ریٹائرڈ ملازمین کو انشورنس کمپنی کے ذریعے طبی سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی، لیکن ملازمین کے نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ اس انشورنس کمپنی کی میڈیکل سروسز کی مکمل تفصیلات تحریری شکل میں فراہم کی جائیں۔

طبی سہولتوں کے علاوہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کے مسئلے پر بھی گفتگو ہوئی، تاہم ہولڈنگ کمپنی نے اگلی میٹنگ تک مہلت طلب کر لی۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے بڈنگ (بولی) عمل میں چار کمپنیاں پہلے ہی اہل قرار دی جا چکی ہیں، ان میں لکی سیمنٹ کنسورشیم، عارف حبیب گروپ کنسورشیم، فوجی فرٹیلائزر کمپنی اور ایئر بلو شامل ہیں۔

حکومت پی آئی اے کے 51 فیصد سے 100 فیصد تک حصص (شیئرز) بمعہ انتظامی کنٹرول فروخت کرنے کی پیشکش کر رہی ہے تاکہ سرمایہ کاری حاصل کر کے قومی ایئر لائن کو منافع بخش ادارہ بنایا جا سکے۔

حتمی بولیاں 2025 کے آخر تک متوقع ہیں، جس سے قبل تمام کمپنیاں ضروری جانچ پڑتال (Due Diligence) مکمل کریں گی۔

Related Posts