پنجاب کے شہر مظفر گڑھ میں اسکول ٹیچرز اور طالبات کی فحش ویڈیوز کے اسکینڈل میں ایک اور شرمناک موڑ سامنے آگیا، مدعیہ اپنے زیادتی سے متعلق بیان سے منحرف ہوگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسکول ٹیچرز اور طالبات سے زیادتی کا یہ واقعہ مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور میں پیش آیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق مرکزی ملزم اور اسکول مالک ہدایت علی رضوی نے مدعیہ شازیہ کو رقم دے کر اپنے ساتھ زیادتی نہ ہونے کا بیان حاصل کرلیا۔
علی پور پولیس نے راضی نامہ دینے پر خاتون کے خلاف اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مقدمے کے ایس ایچ او کو بھی تبدیل کردیا گیا، تاہم ملزمہ گرفتاری دینے کی بجائے فرار ہوگئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ شازیہ کوثر نے ملزم سے زیادتی نہ ہونے کا بیان دینے کیلئے بھاری رقم وصول کی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ہدایت رضوی کے خلاف مقدمہ اس کے والد نے درج کروایا تاہم متأثرہ خاتون شازیہ نے بیان بدلتے ہوئے کہا کہ کوئی زیادتی نیہں ہوئی جس پر عدالت نے ملزم کی ضمانت کنفرم کی، ملزم سے غیر قانونی طور پر رقم وصولی اور بیان سے منحرف ہونے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ڈی پی او مظفر گڑھ نے ایس ایچ او الیاس خان کو تبدیل کردیا۔ ملزمہ بیان بدلنے کے بعد تاحال مفرور ہے جبکہ ہدایت رضوی ایک اور مقدمے میں تاحال عبوری ضمانت پر ہے۔ شازیہ کوثر کے بیان بدلنے کے بعد مقدمے کی تفتیش اور تحقیقات پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








