طیارہ حادثہ جس نے فوجی قیادت کو ہلا کر رکھ دیا! لیبین آرمی آرمی چیف سمیت 5 اعلیٰ افسران جاں بحق

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے طرابلس جانے والا ایک نجی جیٹ طیارہ (ڈاسالٹ فالکن 50 ماڈل) حادثے کا شکار ہوگیا جس میں لیبیا کے آرمی چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد علی احمد الحداد سمیت 4 دیگر اعلیٰ فوجی افسران اور 3 عملے کے ارکان جاں بحق ہو گئے۔ کل 8 افراد سوار تھے۔

یہ حادثہ 23 دسمبر 2025 کو انقرہ کے ایسن بوغا ایئرپورٹ سے ٹیک آف کرنے کے تقریباً 40 منٹ بعد پیش آیا۔طیارہ شام 8:10 بجے اڑا تھا، اور رابطہ منقطع ہونے سے پہلے عملے نے الیکٹریکل فیلئر کی وجہ سے ایمرجنسی لینڈنگ کی درخواست کی تھی۔ ملبہ انقرہ سے جنوب مغرب میں تقریباً 70 کلومیٹر دور حییمانا ضلع کے قریب کیشک کواک گاؤں میں ملا۔

جاں بحق ہونے والے افسران کے نام

لیفٹیننٹ جنرل محمد علی احمد الحداد (آرمی چیف آف جنرل سٹاف)

میجر جنرل الفتوری غریبیل (بری فوج کے کمانڈر)

بریگیڈیئر جنرل محمود القطعاوی (ملٹری مینوفیکچرنگ اتھارٹی کے سربراہ)

محمد الاسوی دیاب (چیف آف سٹاف کے مشیر)

محمد عمر احمد محجوب (چیف آف سٹاف آفس کے فوٹوگرافر)

عملے کے 3 ارکان بھی ہلاک ہوئے

پس منظر

جنرل الحداد ترکی کے سرکاری دورے پر انقرہ میں تھے جہاں انہوں نے ترک وزیر دفاع یاشار گولر، چیف آف جنرل سٹاف جنرل سیلجوک بایراکتار اوغلو اور دیگر اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ یہ ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور سیکورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حادثے سے ایک دن پہلے ترک پارلیمنٹ نے لیبیا میں ترک فوجیوں کی تعیناتی کی مدت میں 2 سال کی توسیع کی منظوری دی تھی۔

تحقیقات اور ردعمل

ابتدائی تحقیقات میں تخریب کاری کو مسترد کر دیا گیا ہے اور تکنیکی خرابی (الیکٹریکل فیلئر) کو ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ترکی کی جسٹس منسٹری نے متعدد پراسیکیوٹرز کو تحقیقات سونپی ہے۔

لیبیا کی طرف سے ایک وفد انقرہ بھیجا جا رہا ہے تاکہ مشترکہ تحقیقات کی جا سکیں۔

لیبیا کی حکومت نے 3 دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے اور تمام سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں رہیں گے۔

وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ نے اسے قوم، فوج اور عوام کے لیے عظیم نقصان قرار دیا۔

Related Posts