پاک،لیبیا دفاعی معاہدہ کے بعد لیبین آرمی چیف کی ناگہانی موت؛ محض اتفاق یا عالمی سازش؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

لیبیا کے آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل محمد علی احمد الحداد کے طیارہ حادثے کے بعد خطے میں سازشی قیاس آرائیوں نے زور پکڑ لیا ہے۔ یہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا جب اس سے چند روز قبل لیبیا کی نیشنل آرمی اور پاکستان کے درمیان اربوں ڈالر مالیت کا دفاعی معاہدہ طے پایا تھا جس کے باعث بعض حلقوں میں دونوں واقعات کو جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا اور غیر سرکاری تجزیوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ لیبیا میں موجود فوج کے دو دھڑوں کے درمیان پرانا تنازع اس حادثے کے پس منظر میں زیرِ بحث آ رہا ہے۔ لیبیا میں ایک طرف مشرق اور جنوب میں سرگرم نیشنل آرمی ہے جبکہ دوسری جانب مغربی حصے میں بین الاقوامی حمایت یافتہ وفاقی حکومت سے منسلک سکیورٹی فورسز موجود ہیں۔ ان دونوں دھڑوں کے درمیان اختیارات، وسائل اور بیرونی عسکری تعاون پر اختلافات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

وقت کے لحاظ سے یہ واقعہ قابلِ غور ہے کیونکہ پاک لیبیا دفاعی معاہدے اور طیارہ حادثے کے درمیان صرف چار روز کا فرق ہے۔ بعض مبصرین سوال کر رہے ہیں کہ کیا معاہدے کی نوعیت یا دباؤ حادثے کے وقت آرمی چیف کے شیڈول پر اثر انداز ہوا یا یہ محض اتفاق تھا۔

لیبیا کی داخلی فوجی صورتحال مزید پیچیدگی پیدا کر رہی ہے۔ اس ملک میں دو مختلف حکومتیں اور عسکری دھڑے موجود ہیں: وفاقی حکومت (غرب) جو عالمی برادری کی حمایت یافتہ ہے اور نیشنل آرمی (شرق و جنوب) جسے LNA کہا جاتا ہے اور ایک علیحدہ عسکری قوت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس غیر مستحکم ماحول میں عسکری قیادت کے سفر اور ایمرجنسی آپریشنز کے دوران ممکنہ مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

سرکاری ابتدائی معلومات کے مطابق طیارہ حادثہ تکنیکی خرابی (الیکٹریکل فیلئر) کے باعث ہوا اور کسی تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے۔ ترک اور لیبیائی حکام نے مشترکہ تحقیقات شروع کر دی ہیں اور حتمی رپورٹ آنے تک کسی نتیجے پر پہنچنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

پاکستان‑لیبیا دفاعی معاہدے کی تفصیل

چار روز قبل پاکستان نے لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ تقریباً 4 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی سازوسامان کی فروخت کا معاہدہ طے کیا تھا جسے ملک کی تاریخ میں سب سے بڑی ہتھیاروں کی فروخت میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ بن غازی میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور لیبیا کی نیشنل آرمی کے ڈپٹی کمانڈر سَدّام خلیفہ ہفتر کے درمیان ملاقات کے بعد حتمی شکل میں آیا۔

معاہدے میں مختلف قسم کا دفاعی سامان شامل ہے جن میں JF‑17 فائٹر جیٹس اور Super Mushak ٹرینر طیارے شامل ہیں۔ یہ سازوسامان زمین، ہوا اور سمندر کے لیے فراہم کیا جائے گا اور اس کا سلسلہ تقریباً دو سال اور نصف تک جاری رہے گا۔ معاہدے میں تربیت اور مشترکہ فوجی صنعت کاری کے امکانات بھی شامل ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ کسی بین الاقوامی پابندی کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے۔

Related Posts