دل کے اسپتال میں پلمبر ایڈمنسٹریٹر! این آئی سی وی ڈی میں کرپشن اور اقربا پروری کی ہولناک کہانی

تازہ ترین

تازہ ترین

Plumber Appointed as Administrator at NICVD
FILE PHOTO

پاکستان کے اہم ترین قومی طبی ادارہ امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) میں ایک سنگین بے ضابطگی سامنے آئی ہے جہاں ایک پیشہ ور پلمبرمصطفیٰ حسن کو غیر قانونی طور پر ادارے کا ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا گیا۔

یہ معاملہ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں رکنِ اسمبلی محمد شبیر قریشی نے باقاعدہ طور پر اٹھایا جس کے بعد ایوان میں سخت تشویش اور احتجاج دیکھنے میں آیا۔

رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ حسن کسی بھی طرح اس اعلیٰ انتظامی منصب کے لیے مطلوبہ تعلیمی قابلیت یا تجربہ نہیں رکھتے اور ان کی تعیناتی کھلی اقربا پروری کی ایک مثال ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ تعیناتی این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر کی مہربانی سے عمل میں آئی، جو خود ایک ماہر امراض قلب ہیں مگر ان کے پاس بھی کوئی انتظامی پس منظر موجود نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر مصطفیٰ حسن کی نااہلی کے باعث ادارے کی ساکھ اور کارکردگی دونوں بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 2023-24 کی رپورٹ میں این آئی سی وی ڈی میں مالی بے ضابطگیوں اور اربوں روپے کے نقصان کا انکشاف ہوا ہے، جو مصطفیٰ حسن کے دورِ تعیناتی میں ہوا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ان تمام انکشافات کے باوجود تاحال کسی کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

رکن اسمبلی شبیر قریشی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر دونوں کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹایا جائے اور معاملے کی شفاف تحقیقات کروا کر ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

ماہرین صحت نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اداروں میں میرٹ اور شفافیت کو بحال کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے، تاکہ عوامی فلاح کے ادارے اقربا پروری اور نااہلی کا شکار نہ ہوں۔

Related Posts