اسلام آباد :وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کا تقرر اپریل میں نہیں نومبر میں ہو گا۔
سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سیاسی عدم استحکام پھیلایا جا رہا ہے۔ تحریک عدم اعتماد ایک قانونی اور سیاسی مسئلہ ہے۔ وفاداریاں تبدیل کرناکسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں۔ نئے آرمی چیف کی تقرری نومبر میں ہونے والی ہے۔
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد پر کوئی بات حتمی نہیں ہوسکتی،حکومت اتحادی جماعتوں سے رابطے میں ہے۔ ووٹنگ کے دن تمام پتے کھل جائینگے۔
انہوں نے کہا کہ نمبر گیم آخری اوور تک جاری رہے گی۔ ہم تحریک عدم اعتماد کے نتائج کے لیے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں اگست 2019 میں 3 سال کی توسیع کی گئی تھی۔ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا اعلامیہ وزیراعظم عمران خان کے دستخطوں سے جاری کیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان کے دستخطوں سے جاری کردہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حکمنامہ پر تاریخ 19اگست درج ہے۔