پائیدار امن کے لیے عالمی دنیا افغان حکومت کی مدد کرے، وزیراعظم عمران خان

تازہ ترین

تازہ ترین

پائیدار امن کے لیے عالمی دنیا افغان حکومت کی مدد کرے، وزیراعظم عمران خان
پائیدار امن کے لیے عالمی دنیا افغان حکومت کی مدد کرے، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے نئی افغان حکومت کے ساتھ تعاون کرے۔

وزیر اعظم عمران خان نے پیر کے روز واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ہم دنیا پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں وہ مقاصد حاصل کرنے ہیں جن کے لیے ہم نے مل کر دوحہ امن معاہدہ کیا تھا۔

وزیراعظم نے واضح طور پر کہا کہ افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری جنگ کے نتائج کے لیے پاکستان کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں ماضی کی طرح الزام تراشی جاری رکھنے کی بجائے افغانستان میں ایک اور پرتشدد تنازعہ کو روکنے کے لیے مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیے۔

سوویت یونین کی شکست کے بعد امریکا نے افغانستان پر چڑھائی کردی، اب امریکا بھی چھوڑ کر چلا گیا ہے ۔ خانہ جنگی سے متاثرہ افغانستان کے 40 لاکھ افراد کی پاکستان میزبانی کررہا ہے۔ افغان مہاجر کیمپوں میں افغانیوں کی ایک نئی پود پیدا ہوئی اور انہوں نے یہیں تعلیم حاصل کی۔

گزشتہ ہفتے وزیر اعظم عمران خان نے دوشنبے میں غیرملکی خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان حکومت خود کو افغانستان میں ایک حقیقت کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ امریکہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ” ہم سمجھتے ہیں کہ صدر جوبائیڈن نے افغانستان سے نکلنے کا ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا تھا۔”

عمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ “انہیں کئی غیر منصفانہ تنقیدوں کا بھی سامنا کرنا پڑا جبکہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے۔”

انٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ، وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ افغان سرزمین تین دہشت گرد گروہ پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے پوچھا کہ افغانستان خطے کا سب سے اہم مسئلہ ہے جو ایک نازک موڑ پر ہے جبکہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم بھی جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں : محکمہ داخلہ سندھ نے چہلم کے موقع پر ڈبل سواری پر پابندی لگادی

Related Posts