پاکستان کو پسماندہ طبقے کا خیال رکھنے والی فلاحی ریاست بنائیں گے۔وزیراعظم

تازہ ترین

تازہ ترین

وزیراعظم کی بلدیاتی انتخابات میں شکست کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی ہدایت
وزیراعظم کی بلدیاتی انتخابات میں شکست کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی ہدایت

اسلام آباد: وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ ہم ملک کو پسماندہ طبقے کا خیال رکھنے والی فلاحی ریاست بنائیں گے جس کی بنیاد ہمارے نبی ﷺ کی ریاستِ مدینہ کے تصور پر مبنی ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق صوفی اسکالر شیخ حمزہ یوسف سے سوشل میڈیا پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم پاکستان کی بنیاد 2 اصولوں کی بنیاد پر قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اول فلاحی و انسانی ریاست جو معاشرے کے نچلے طبقات کا خیال رکھے اور دوم وہ قانون کی حکمرانی کا خیال رکھنے والی ریاست ہونی چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں:

سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز کی مبینہ آڈیو لیک ہوگئی

شاہد خاقان عباسی کا نیب پر حکومت کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا الزام

ماحولیاتی چیلنجز کے متعلق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ماحول کو مقدس سمجھنا ہوگا۔ دنیا میں سب سے بڑی ماحولیاتی تباہی جسے موسمیاتی تبدیلی کہتے ہیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ انسان مقدسات سے بہت دور چلا گیا اور مقدس کا بنیادی مطلب دوسروں کے بارے میں انسانی سوچ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایسے جیو جیسے کل مرجاؤگے۔

گفتگو کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے اعمال ایسے ہونے چاہئیں کہ اگر ہم کل مر جائیں تو اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں لیکن دنیا میں ایسے رہیں جیسے ہزار سال زندہ رہنا ہے۔ جو کچھ بھی ہم کرتے ہیں، اس کے اثرات کے بارے میں سوچنا ہوگا کہ انسانیت پر مزید 1000 سال تک کیا اثرات پڑیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں سیاسی نظام کے ذریعے جو قیادت لائی گئی وہ عقیدے سے الگ تھلگ تھی، اس لیے انہوں نے اقتدار میں آکر سمجھوتہ کر لیا اور اقتدار زیادہ تر سیاستدانوں کے ذاتی مفادات کیلئے استعمال ہوا۔ زیادہ تر ترقی پذیر دنیا میں سیاستدان اپنے مفادات اور پیسہ کمانے کیلئے ہی حکومت میں آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کسی اعلیٰ مقصد کے تحت سامنے آنے والے نیلسن منڈیلا جیسے انسان بہت کم تھے۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح ایک عظیم مقصد کیلئے آئے۔ سیاستدانوں کو حقارت کی نظر سے اس لیے دیکھا جاتا ہے کیونکہ وہ دوسروں کی مدد کیلئے آنے کا کہتے ہیں لیکن درحقیقت وہ اپنی مدد کر رہے ہوتے ہیں۔

 

Related Posts