سوات: خیبرپختونخوا پولیس نے ضلع سوات کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سینٹرل پولیس آفس کی جانب سے جاری کردہ ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے کہ سوات کے کچھ افراد جو پہلے افغانستان میں رہ رہے تھے سوات کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں موجود ہیں۔
پولیس کے مطابق صورتحال مکمل طور پر سول انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ پولیس کا یہ بیان وزیراعلیٰ محمود خان کے آبائی شہر تحصیل مٹہ کے ایک دور دراز علاقے میں پولیس اور طالبان کے درمیان جھڑپ پر صوبائی حکومت کی کئی روز کی خاموشی کے بعد سامنے آیا ہے۔
مبینہ طور پر جھڑپ کے بعد ایک ڈی ایس پی اور کچھ سیکیورٹی اہلکاروں کو مشتبہ عسکریت پسندوں نے حراست میں لے لیا تھا جس کے بعد انہیں جرگے کی مداخلت پر رہا کیا گیا۔
حکومت نے میرا پاکستان میرا گھر اسکیم کے دوبارہ اجراء کا فیصلہ کرلیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








