لاہور: پولیس کانسٹیبل کو خاتون ساتھی کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، ملزم نے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے اہم انکشاف کئے ہیں۔
فاروق کو لیڈی کانسٹیبل سومن بی بی کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، مقتولہ کے بھائی کی شکایت پر تھانہ ہربنس پورہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل انویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد دو دیگر مشتبہ افراد طاہر اور حمزہ ہیں، جو فی الحال فرار ہیں اور پولیس ان کی تلاش کر رہی ہے۔
گرفتار ملزم فاروق نے پولیس کو اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ وہ سومن بی بی سے محبت کرتا تھا اور اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ تاہم لیڈی کانسٹیبل فاروق کے ساتھ دیرینہ تعلقات کے بعد کسی اور سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔
ایک ہی پیشے میں ہونے کی وجہ سے فاروق اور سومن بی بی دونوں پولیس لائنز میں تعینات تھے اور انہیں وقوعہ کے روز تھانہ مناواں میں ڈیوٹی دی گئی تھی۔
سومن بی بی پر حملے کا افسوسناک واقعہ ہربنس پورہ میں زیر تعمیر تھانے کے قریب پیش آیا جہاں دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں لیڈی کانسٹیبل جاں بحق ہوگئی۔ سومن بی بی کی عمر 26 سال تھی اور وہ اینٹی رائٹ فورس (اے آر ایف) میں خدمات انجام دے رہی تھی۔
مزید تفتیش سے معلوم ہوا کہ فاروق ہی مجرم تھا، پولیس حکام کے مطابق سومن بی بی فاروق کے ساتھ موٹر سائیکل پر جائے وقوعہ پر پہنچی۔ ان کے درمیان جھگڑا ہوا، جس کے دوران فاروق نے قریبی پارک میں سومن بی بی کو زدوکوب کیا۔
مقامی باشندوں نے مداخلت کی اور فاروق کو معافی مانگنے کو کہا۔ جواب میں فاروق نے ہوا میں گولیاں چلائیں جس سے ہجوم منتشر ہوگیا۔ ہجوم کے منتشر ہونے کے بعد فاروق نے سومن بی بی کو متعدد گولیاں ماریں جس سے وہ جاں بحق ہوگئیں۔ پولیس دوسرے مشتبہ افراد طاہر اور حمزہ کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے ۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








