پاکپتن میں پولیس اہلکار کی جانب سے خاتون پر مبینہ تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ضلعی پولیس حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ اے ایس آئی کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب اے ایس آئی اعجاز ایک مقدمے میں مطلوب خاتون کو گرفتار کرنے کے لیے پہنچا۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اہلکار نے خاتون کو تھپڑ ماراجبکہ ساتھ موجود لیڈی کانسٹیبل نے بھی روکنے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ درست عمل نہیں۔
اے ایس آئی اعجاز نے کہا کہ اگر تو نے میڈیکل کرایا تو 9 سی کا پرچہ دے دوں گا، لیڈی کانسٹیبل نے اُسے کہا بھی کہ سر آپ کیوں مار رہے ہیں، میں جو ساتھ ہوں، میں مظلوم ہوں، 2 چھوٹے بچے ہیں، کہاں جائوں، پاک پتن میں پولیس اہلکار کے تشدد کا شکار عورت کی رو رو کر دہائی۔۔!! pic.twitter.com/83WT8pdg4q
— Khurram Iqbal (@khurram143) August 7, 2025
ویڈیو میں متاثرہ خاتون روتے ہوئے یہ فریاد کرتی سنائی دیتی ہے کہ وہ مظلوم ہے، اس کے دو چھوٹے بچے ہیں اور اسے سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں جائے۔
ڈی پی او پاکپتن کے مطابق خاتون پر ہاتھ اٹھانے کی کسی قانون میں اجازت نہیں، اسی لیے وڈیو سامنے آتے ہی فوری ایکشن لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار کا یہ رویہ محکمہ پولیس کے ضابطہ اخلاق کے سراسر منافی ہے اور اس قسم کے واقعات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
وائرل ویڈیو میں اعجاز ASIمقدمے میں مطلوب خاتون کو گرفتار کرنے گیا اور اس کو تھپڑ مارے جس کی کوئی قانون اجازت نہیں دیتا۔ ہم نے فوراً ایکشن لے کر ASIکو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے، ڈی پی او پاکپتن pic.twitter.com/GtcZmHc2NT
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) August 7, 2025
ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون کے خلاف درج مقدمہ پہلے سے عدالت میں زیرِ سماعت ہے تاہم گرفتاری کے دوران ضابطہ کار کی خلاف ورزی اور تشدد کا واقعہ پولیس کے لیے ایک سنگین داخلی مسئلہ بن گیا ہے۔
ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات پولیس کے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں، اس لیے ضرورت ہے کہ محکمہ پولیس اپنے اہلکاروں کی تربیت اور احتساب کے نظام کو مزید سخت کرے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








