اسلام آباد میں کے پی ہاؤس پر چھاپہ، پی ٹی آئی کے مطلوب رہنما پولیس کے ہاتھ آئے یا نہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Police return empty-handed after attempt to arrest PTI leaders at KP house
ONLINE

اسلام آباد میں خیبر پختونخوا ہاؤس پر پولیس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔

ذرائع کے مطابق پولیس کی بھاری نفری نے کوہسار تھانے میں درج مقدمے کے تحت عدالت کی جانب سے جاری ناقابلِ ضمانت وارنٹس پر عمل درآمد کے لیے کارروائی کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس ٹیم کو ایم پی اے مینا خان، شفیع جان اور ڈاکٹر امجد کو گرفتار کرنے کی ہدایت تھی تاہم جب چھاپہ مارا گیا تو یہ رہنما خیبر پختونخوا ہاؤس میں موجود نہیں تھے۔

اس دوران پولیس نے عمارت کی تلاشی لی اور بعد ازاں بغیر کسی گرفتاری کے واپس لوٹ گئی۔

ذرائع کے مطابق یہ کارروائی عدالت کے احکامات پر عمل درآمد کے سلسلے کا حصہ تھی جو 26 نومبر کے کیس سے متعلق جاری کی گئی تھی۔

دوسری جانب بلوچستان حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کو کوئٹہ میں جلسہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق صوبے میں سیکورٹی خدشات اور امن و امان کی صورتحال کے باعث جلسہ منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

پی ٹی آئی اور اتحادی اپوزیشن جماعتوں نے جمعہ، 7 نومبر 2025 کو کوئٹہ کے ہاکی گراؤنڈ میں جلسے کا اعلان کیا تھا، تاہم ضلعی انتظامیہ نے سیکشن 144 نافذ کر کے پانچ سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی لگا دی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے بلوچستان ہائی کورٹ کو اپنی رپورٹ میں آگاہ کیا کہ سیکورٹی صورتحال کی خرابی کے باعث پی ٹی آئی کے جلسے کی اجازت ممکن نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ستمبر میں کوئٹہ کے شاہوانی اسٹیڈیم کے قریب بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے جلسے کو نشانہ بنانے والے خطرناک دھماکے میں 15 افراد جاں بحق اور 72 زخمی ہوئے تھے۔

دھماکہ جلسہ ختم ہونے کے تقریباً 45 منٹ بعد اس وقت ہوا جب زیادہ تر شرکاء وہاں سے جا چکے تھے، حالانکہ انتظامیہ نے تقریب کے دوران 112 سیکورٹی اہلکار تعینات کیے تھے۔

Related Posts