جنسی مناظر پر مبنی کسی فلم کا آسکر جیتنا ایک نایاب واقعہ ہے لیکن اس فلم کو خود جنسی کارکنوں کی جانب سے پذیرائی ملنا اور بھی حیران کن ہے۔
اگر شان بیکر کی فلم “انورا” اگلے اتوار کو آسکر ایوارڈز میں کامیابی حاصل کرتی ہےجیسا کہ بیشتر ماہرین پیشگوئی کر رہے ہیں تو یہ دونوں اعزاز اپنے نام کرے گی۔
مشہور فحش اداکارہ اور ہدایت کارہ کیسی کیلورٹ کا کہنا ہے کہ شان بیکر جنسی کام کو سمجھتے ہیں۔ وہ واحد مرکزی دھارے کے فلمساز ہیں جو نہ صرف حقیقت کو صحیح طریقے سے پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ اس کی پرواہ بھی کرتے ہیں۔
شان بیکر کا فلمی سفر لاس اینجلس کے قریب سان فرنینڈو ویلی میں شروع ہواجو امریکہ میں فحش فلموں کی صنعت کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے یہاں اپنی کم بجٹ کی فلم “سٹارلیٹ” بنائی، جو ایک نوجوان اداکارہ اور ایک معمر خاتون کے درمیان غیر معمولی دوستی کی کہانی تھی۔
انورا کی کہانی انی نامی نیویارک کی ایک اسٹرائپر اور ایسکورٹ کے گرد گھومتی ہے، جو ایک امیر روسی گاہک کے ساتھ تعلق میں الجھ جاتی ہے۔
فلم میں پیش کیے گئے چھوٹے چھوٹے حقائق جیسے پول ڈانسنگ سے پڑنے والے زخم یا مخصوص انداز میں انگلیاں چاٹنے جیسے مناظر، اس کے حقیقی ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔
شہناز گل کا نازیبا فوٹو شوٹ، غیر اخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر لیک
کیسی کیلورٹ کے مطابق یہ وہ تفصیلات ہیں جو عام ناظرین شاید نہ سمجھ سکیں لیکن جنسی کام سے وابستہ افراد فوراً پہچان لیتے ہیں۔
ہالی ووڈ میں عام طور پر جنسی کام کو حقیقت سے دور اور سنسنی خیز انداز میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔ “پریٹی وومن” جیسی فلموں نے حقیقی مشکلات کی بجائے ایک رومانوی اور مصنوعی دنیا پیش کی، جہاں ایک امیر شخص غریب عورت کو بچا لیتا ہے۔
کیلورٹ کہتی ہیں کہ “ہالی ووڈ نے ہمیشہ جسم فروشی پر مبنی ایسی فلمیں بنائیں جو حقیقت پسندانہ نہیں تھیں لیکن بیکر نے جان بوجھ کر ان گھسے پٹے تصورات سے گریز کیا اور کرداروں کی زندگی، جذبات اور مشکلات کو حقیقی انداز میں دکھایا۔انورا کانز فلم فیسٹیول کے اعلیٰ ترین اعزاز “پام ڈی اور” سمیت کئی بڑے ایوارڈ جیت چکی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








