پیپلز پارٹی، اے این پی اور جے یو آئی (ف) کا کالا باغ ڈیم منصوبے کو مسترد کرنے کا اعلان

تازہ ترین

تازہ ترین

PPP, ANP, and JUI-F reject Kalabagh Dam proposal
(Google map)

پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جانب سے کالا باغ ڈیم منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کی تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

اے این پی کے سربراہ ایمل ولی خان نے کہا کہ کالا باغ ڈیم سیلاب کے مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے منصوبے محض سیاسی نعرے ہیں جو عوام کو اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش ہیں۔

جے یو آئی (ف) خیبر پختونخوا کے ترجمان عبدالجلیل جان نے اس منصوبے کو مردہ گھوڑا قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وزیراعلیٰ کہاں ہیں وہ 350 ڈیم، جنہیں بنانے کا دعویٰ انہوں نے ماضی میں کیا تھا؟

پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کے جنرل سیکریٹری ہمایوں خان نے بھی اس منصوبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کالا باغ ڈیم ایک مردہ گھوڑا ہے جو دوبارہ زندہ نہیں ہو سکتا۔ ان کے بقول علی امین گنڈاپور عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ گنڈاپور کی پوزیشن کی حمایت کرتے ہوئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے تمام صوبوں کے درمیان مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی تجویز دی تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کالا باغ ڈیم کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صوبائیت کو قومی مفاد کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔ ان کے مطابق ہم ایک ایسے منصوبے کو پیچھے نہیں دھکیل سکتے جو پاکستان کے لیے فائدہ مند ہو۔

ہمیں کالا باغ ڈیم جیسے منصوبے اتفاق رائے سے اور ملک کے مستقبل کے لیے بنانے ہوں گے، تمام صوبوں کے تحفظات کو قومی مفاد میں دور کرنا ہوگا۔

Related Posts