بالی ووڈ فلمز میں ولن کے کردار سے شہرت حاصل کرنے والے سینئر فنکار پرکاش راج کی حالیہ تقریر پر ہنگامہ برپا ہے۔ پرکاش راج نے مسلمانوں کے قتل عام کی پیشگوئی کرتے ہوئے بھارتی عدالتوں کی کارکردگی کو بھی شرمناک قرار دیا تھا۔ انتہا پسند ہندوؤں نے پرکاش راج کو غدار اور ملک دشمن قرار دے کر گرفتاری کا مطالبہ کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پرکاش راج نے بھارتی شہر حیدر آباد میں تقریر کے دوران بی جے پی اور آر ایس ایس پر مسلمانوں سمیت اقلیتوں کی نسل کشی کی تیاری کرنے کا الزام عائد کیا۔ بھارتی میڈیا نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ تقریر گزشتہ ماہ سامنے آئی تھی جو رواں ہفتے وائرل ہوگئی ہے۔
تقریر وائرل ہونے پر بی جے پی کے حامیوں کا شدید ردِ عمل سامنے آیا اور پرکاش راج کو گرفتار کرو جیسے ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے۔ مختلف سوشل میڈیا پیغامات میں پرکارش راج کو جھوٹا، اشتعال انتیز اور ملک دشمن تک کہا گیا۔ بہت سے انتہا پسندوں نے پرکاش راج کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا۔
“They want to wipe out Muslims.”
Hindus were massacred & forced to flee from Kashmir. Hindus are being killed in Bangladesh & Pakistan everyday.
But this man @prakashraaj has the audacity to say that Muslims are facing genocide in India.
ARE YOU OUT OF YOUR MIND? #justasking pic.twitter.com/0QO9c8QpNe
— BALA (@erbmjha) January 6, 2026
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پرکاش راج نے ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کے زیر اہتمام انصاف کیلئے تڑپ نامی تقریب میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ نسل کشی کی تیاری ہے اور وہ (نریندر مودی) مسلمانوں کا صفایا کرنا چاہتے ہیں۔یہ ان کا ایجنڈا ہے۔
انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کو پوشیدہ عفریت قرار دیتے ہوئے پرکاش راج نے کہا کہ اصل طاقت آر ایس ایس کے پاس ہے جو کہ کوئی سیاسی جماعت نہیں۔ بھارتی عدالتوں کو شرم آنی چاہئے۔ آپ انصاف کا قتل کرکے سب سے بڑا جرم کر رہے ہیں جبکہ عدالتیں بھارتی شہریوں کی آخری امید ہوا کرتی تھیں۔
یہی نہیں، بلکہ پرکاش راج نے نریندر مودی کے کردار پر بھی کھل کر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ مودی کے ہاتھ کانپ رہے تھے جب آر ایس ایس کا جھنڈا بلند ہوا۔ یہ شخص بھارت کے قومی جھنڈے کی اتنی عزت نہیں کرتا۔ آپ بی جے پی سے لڑ رہے ہیں، آپ کو آر ایس ایس کا سامنا کرنا ہوگا۔ آج وہ مسلمانوں کا قتل عام کرنے کے درپے ہیں تو کل آپ کے پیچھے بھی آئیں گے۔
پرکاش راج کی ویڈیو وائرل ہونے پر بی جے پی لیڈروں اور حامیوں نے سوشل میڈیا پر واویلا شروع کردیا۔ بہت سے انتہا پسندوں نے کہا کہ بی جے پی یا ار ایس ایس مسلمانوں کے خلاف تشدد کی اپیل نہیں کرتے، تاہم یہ سچ نہیں ہے کیونکہ مودی حکومت کے دورِ اقتدار میں بے شمار بی جے پی رہنما مسلم مخالف اشتعال انگیز تقریریں کر چکے ہیں۔
خیال رہے کہ ماضی میں بھی اداکار پرکاش راج نے اسی طرح بی جے پی سمیت دیگر بھارتی حکمرانوں کے خلاف بیانات دئیے۔ ششی تھروور کے ساتھ کی گئی گفتگو میں پرکاش راج کا کہنا تھا کہ بھارت میں دیگر بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری نہیں ہیں، ہندی بھارت کی قومی نہیں بلکہ آفیشل زبان ہے۔ زبان کو چھوڑیں۔ بنیادی ضروریات کی بات کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








