پاکستان میں کام کرنے والی ایئرلائنز نے جیٹ فیول کی قیمتوں میں اچانک اضافے اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے منسلک فضائی حدود میں جاری خلل کے باعث فیول سرچارج متعارف کروا کر ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
ایئرلائنز نے اندرونِ ملک اور بین الاقوامی دونوں پروازوں کے لیے فی سفر 20 سے 100 ڈالر تک فیول سرچارج شامل کر دیا ہے جس کے باعث مسافروں کے سفر کی مجموعی لاگت بڑھ گئی ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان میں جیٹ فیول کی قیمتیں اس ماہ نمایاں طور پر بڑھ گئیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق قیمت 188.93 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 342.32 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
ترجمان پاکستان ایئر انٹر نیشنل (پی آئی اے) عبداللہ حفیظ نے کہا کہ ایئرلائنز نے باضابطہ طور پر بنیادی کرایوں میں اضافہ نہیں کیا تاہم انہیں ایوی ایشن فیول کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو پورا کرنے کے لیے سرچارج لگانا پڑا۔
ان کا کہنا تھاکہ ایئرلائنز نے جیٹ فیول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے فی سفر 20 سے 100 ڈالر تک فیول سرچارج عائد کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آنے جانے (راؤنڈ ٹرپ) کے ٹکٹ پر راستے اور فاصلے کے لحاظ سے 40 سے 200 ڈالر تک اضافی خرچ آ سکتا ہے۔
سعودی عرب جانے والی پروازوں، جن میں ریاض، دمام، جدہ اور مدینہ شامل ہیں پر اس وقت فی سفر 50 ڈالر یعنی واپسی کے ٹکٹ پر 100 ڈالر سرچارج لگایا جا رہا ہے جبکہ لندن جانے والی پروازوں پر فی سفر 75 ڈالر سرچارج عائد ہے۔
کچھ روٹس پر ٹکٹ کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ جانے والی پروازیں جو پہلے تقریباً 250,000 روپے میں ملتی تھیں اب بڑھ کر 10 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ اسی طرح پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کرایہ 125,000 روپے سے بڑھ کر تقریباً 200,000 روپے ہو گیا ہے۔
مجموعی طور پر ایئرلائنز نے فی ٹکٹ 10,000 سے 28,000 روپے تک اضافہ کیا ہے جبکہ ٹورنٹو اور مانچسٹر جیسے طویل فاصلے کے مقامات کے لیے سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








