کراچی میں ایک دکان کے باہر رکھا گیا شیطان کا پراسرار مجسمہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس پر سخت عوامی ردعمل آنے کے بعد پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دیں۔
شیطان کے مجسمے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی تحقیقات کی جائیں۔ اس پر حکام نے مجسمے کو تحویل میں لیکر باقاعدہ انکوائری شروع کی۔
شیطانی مجسمہ جسے بعل (Baal) کا نام دیا گیا تھا پولیس حکام نے فوری طور پر تحویل میں لے لیا گیا تاہم بعد میں حکام نے انکشاف کیا کہ یہ مجسمہ ایک مقامی مجسمہ ساز نے یومِ القدس کے موقع پر ایک علامتی احتجاج کے لیے تیار کیا تھا۔
کراچی کورنگی میں بھی شیطانی مجسمے کی تیاری ۔۔۔
سمجھ نہیں آرہی اب ہمارے والوں کا کیا ضرورت آن پڑی ہے؟ pic.twitter.com/nZFjdfOcKd— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) March 11, 2026
پولیس کے مطابق علامہ شبیر زیدی نے اپنے بیان میں وضاحت کی کہ یہ مجسمہ یومِ القدس کے لیے ایک علامتی احتجاج کے طور پر تیار کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق منصوبہ یہ تھا کہ جمعہ کو یومِ القدس کی تقریب کے دوران اس مجسمے کو علامتی طور پر نذرِ آتش کیا جائے گا تاہم تقریب سے پہلے ہی اس مجسمے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس سے یہ معاملہ عوامی توجہ کا مرکز بن گیا۔
تحقیقات کے بعد پولیس نے اب اس مجسمے کے بارے میں مزید تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق یہ مجسمہ تھرموپول (Thermopol) سے بنایا گیا تھا اور اسے ایک مقامی مجسمہ ساز نے تیار کیا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ جب اس مجسمے کی ویڈیوز آن لائن گردش کرنے لگیں تو یہ جاننے کے لیے تحقیقات شروع کی گئیں کہ اس کا مقصد کیا تھا اور اسے وہاں کیوں رکھا گیا تھا۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے مجسمہ ساز عمران کا بیان ریکارڈ کیا۔ عمران کے مطابق یہ مجسمہ انہیں علامہ شبیر زیدی نامی شخص کے کہنے پر بنانے کا آرڈر دیا گیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








