ہریانہ کے بعد بھارت میں مزید مسلم کش فسادات کی تیاری، انتہا پسند ہندوؤں کا پلان بے نقاب

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارتی ریاست ہریانہ کے علاقے نوح میں مسلم کش فسادات کے بعد بھی ہندو انتہا پسندوں کی نفرت کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی، اب ہندو شدت پسند تنظیمیں بھارت میں مزید مسلم کش فسادات کی سازش کررہی ہیں۔

گذشتہ روز دہلی کے علاقے جنتر منتر میں ہندو پنچایت منعقد کی گئی جہاں مسلمانوں کے خلاف انتہائی نفرت انگیز ریمارکس پاس کئے گئے اور ہندو برادری کو تشدد پر اکسانے کی کوشش کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:

سعودی وزارت سیاحت پاکستان میں سفری پلاننگ کی ایپ نُسُک کا آغاز کرے گی

اطلاعات کے مطابق ’ہندو مہاپنچایت‘ میں مقررین نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی گئیں اور اقلیتی برادری کے خلاف ہندوؤں کو اکسانے والے ریمارکس دیے گئے۔

اس دوران ’ہندو مہا پنچایت‘ کے پنڈال میں موجود پولیس افسران نے نفرت انگیز تقاریر کے دوران مداخلت کرتے ہوئے پنچایت رکوا دی۔ ساتھ ہی پولیس نے فتنہ پرداز ہندو رہنما ملعون یتی نرسنگھانند کو یہاں سے منتقل کردیا اور دیگر ایک سو زائد شرکاء کو منتشر کردیا۔

واضح رہے کہ 11 اگست کو سپریم کورٹ نے کسی بھی مذہبی برادری کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کو ناقابل قبول قرار دیا تھا اور ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی تھی۔
جنتر منتر پر کچھ فرقہ پرست ہندو تنظیموں کی طرف سے منعقد کی گئی میٹنگ کو پولیس نے درمیان میں ہی روک دیا جب کچھ مقررین نے مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریریں کیں۔

آل انڈیا سناتن فاؤنڈیشن اور دیگر تنظیموں کے زیر اہتمام ’مہا پنچایت‘ سے خطاب کرتے ہوئے متنازعہ ہندو شدت پسند رہنما یتی نرسنگھا نند نے کہا کہ اگر ہندوؤں کی آبادی کم ہوتی ہے اور مسلمانوں کی آبادی اسی طرح بڑھتی ہے، تو ہزار سالہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی، پھر جو کچھ پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے ساتھ ہوا وہی یہاں دہرایا جائے گا۔

وشنو گپتا نے الزام لگایا کہ نوح اور میوات جہادیوں اور دہشت گردوں کے قلعوں میں تبدیل ہو چکے ہیں اور مطالبہ کیا کہ وہاں فوج اور سی آر پی ایف کیمپ قائم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک 1947ء میں مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہوا، جب تک ایک بھی مسلمان بھارت میں موجود ہے تقسیم مکمل نہیں ہوگی۔

Related Posts