اسلام آباد: صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج شام کو طلب کیا ہے جس سے صدرِ پاکستان خطاب بھی کریں گے، خطاب میں حکومت کی گزشتہ پارلیمانی سال کی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 6 اکتوبر کے روز شام 5 بجے ایوانِ بالا و زیریں کا مشترکہ اجلاس آئینِ پاکستان کی دفعہ 54 ون اور 6 تھری کے تحت طلب کیا۔صدرِ مملکت کو مشترکہ اجلاس سے خطاب 14اگست کو کرنا تھا جس میں تاخیر ہوئی۔
حکمران اتحاد کا پی ٹی آئی کو اسلام آباد پر یلغار نہ کرنے دینے کا عزم
وفاقی حکومت نے صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کی دعوت گزشتہ ماہ 24 ستمبر کے روز دی تھی۔بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی مرتبہ تاریخیں دینے کے باوجود بھی اجلاس باہمی اختلافات کے باعث نہیں ہوسکا۔
پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے صدرِ مملکت کو ایوانِ بالا و زیریں سے خطاب کیلئے باضابطہ طور پر دعوت دی اور اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے بھی اس حوالے سے تحفظات دور ہوگئے ہیں۔حکومت نے صدر کی جانب سے ممکنہ تنقید پر حکمتِ عملی تیار کر لی۔
اتحادی جماعتوں اور وفاقی حکومت سمیت اسٹیک ہولڈرز نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے متعلق اسپیکر آفس میں طویل مشاورت کے بعد اجلاس بلانے کیلئے اتفاقِ رائے کا اظہار کیا۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر صدر نے تنقید کی تو شور شرابہ نہیں کیا جائے گا تاہم خطاب پر بحث ہوگی۔
حکومت صدرِ مملکت کو خطاب کی دعوت دینے سے قبل دیگر آپشنز پر بھی غور کرچکی ہے جبکہ نئے پارلیمانی سال کے آغاز کیلئے صدرِ مملکت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ممکنہ تنقید پر صدرِ مملکت کے خطاب پر بحث کے دوران جواب دیا جاسکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








