صدر مملکت عارف علوی نے مخصوص نشستوں سے متعلق نگراں وزیراعظم انوار الحق کی ایڈوائس اعتراض لگا کر واپس بھیج دی۔
صدرمملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری پر اعتراض لگاتے ہوئے کہا کہ پہلے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو مکمل کریں، پھر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے۔ صدر مملکت نے سمری وزیراعظم ہاؤس اور وزارت پارلیمانی امور کو واپس بھجوا دی۔
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے 26فروری کو صبح دس بجے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے سمری صدر مملک عارف علوی کو ارسال کی تھی۔
آئین کیا کہتا ہے؟
آئین پابند کرتا ہے کہ انتخابات کے 21 دن کے اندر اجلاس لازمی بلایا جائے اور آئین کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو لازمی بلا نا پڑے گا۔
آگے کیا ہوگا؟
اگر 29 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا تو اسی دن حلف کے بعد نئے اسپیکر کا شیڈول جاری کیا جائے گا، پھر یکم مارچ کو اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کروائے جائیں گے اور دو مارچ کو اسپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب ہوگا جس کے بعد اسی دن ڈپٹی اسپیکر کا بھی چناؤ کر لیا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








