وقت بڑا ظالم ہوتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر کی حیثیت سے کبھی دُنیا کو آنکھیں دِکھایا کرتے تھے لیکن امریکی انتخابات نے سب کچھ چوپٹ کردیا۔یہ کہانی تصویروں کی صورت میں دیکھئے۔
وہ وقت جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر تھے اور اپنی مرضی سے جو چاہتے، کرتے تھے، چین کو آنکھیں دکھانا ان کا سرِ فہرست اقدام کہا جاسکتا ہے۔

صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ بعض دلچسپ حرکات اور مزاحیہ حد تک تنقیدی لب و لہجے کیلئے مشہور رہے۔ دُنیا دلچسپ حرکتیں کرنے والے ٹرمپ کو شاید کبھی نہ بھولنا چاہے۔

دلچسپ حرکتیں اپنی جگہ، لیکن ٹرمپ کی پالیسیوں پر خود امریکی عوام ان کے خلاف تھی، اس لیے جب جوبائیڈن ایک مضبوط مخالف امیدوار بن کر ابھرے تو دنیا نے ان کی تعریف کی۔

جو بائیڈن کوئی معمولی امیدوار نہیں تھے اور جب وہ انتخابات کیلئے مخالف امیدوار بنے تو سابق امریکی صدر براک اوباما بھی ان کی حمایت کرتے نظر آئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی مخالف امیدوار کو برداشت نہیں کرسکتے تھے، انہوں نے سابق صدر بارک اوباما اور جو بائیڈن کا سامنا کرنے کی بجائے انہیں نظر انداز کرنے کی پالیسی اپنائی اور زبردست تنقید بھی کی۔

دوسری جانب دو معمر اشخاص امریکا کے صدارتی انتخاب میں جیت کیلئے پر عزم تھے، اسے دنیا نے ایک الگ نظر سے دیکھا کہ اگر جو بائیڈن کامیاب ہوئے تو اس سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟
صدارتی انتخابات کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کورونا وائرس سے جنگ جیتنے کے بعد جو بائیڈن سے جنگ کیلئے میدان میں اترے لیکن یہاں قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔

انتخابی مہم میں جو بائیڈن بھی ٹرمپ سے پیچھے نہ رہے اور عوام نے انہیں نئے امریکی صدر کے طور پر دیکھنا اور سراہنا شروع کردیا۔
![]()
دلچسپ مرحلہ تب سامنے آیا جب امریکی صدر کے عہدے کے دونوں امیدواروں کو روبرو کھڑا کیا گیا اور دونوں نے اپنا اپنا مؤقف آمنے سامنے رہتے ہوئے واضح کیا۔

ابتدا ہی سے جو بائیڈن کا پلڑا بھاری نظر آیا اور بہت کم وقت کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کو کامیابی ہوئی اور ٹرمپ نے جو بائیڈن کی کامیابی کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کرلیا۔

اب ٹرمپ سپریم کورٹ جاتے ہیں یا نہیں، یہ ان کی مرضی لیکن جو بائیڈن امریکا کے نئے صدر منتخب ہوچکے ہیں اور یہ امریکا کے عوام کے ووٹوں کی طاقت ہے جس نے انہیں کامیاب کیا۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








