مہنگائی کا نیا طوفان تیار، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

تازہ ترین

تازہ ترین

ماہرین کا پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرکے قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ
ماہرین کا پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرکے قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ

اسلام آباد: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 235 روپے 98 پیسے تک جا پہنچی۔

تفصیلات کے مطابق آج سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے پیٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کی بجائے اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے کا امکان

آئی ایم ایف معاہدہ، پٹرول کی قیمت میں 20 روپے لیٹر اضافے کا امکان

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 2 روپے 7 پیسے کا اضافہ کیا، پیٹرول کی نئی قیمت 235 روپے 98 پیسے پر پہنچ گئی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 2 روپے 99 پیسے اضافے سے 247روپے 43پیسے ہوگئی۔

پیٹرولیم کی دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں 10 روپے 92 پیسے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد مٹی کا تیل نئی قیمت 210 روپے 32 پیسے پر فروخت کیا جارہا ہے۔

لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 9 روپے 79 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا جس کے بعد لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 201 روپے 54 پیسے ہوگئی ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل حکومت کی جانب سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھجوائے گئے لیٹرآف انٹینٹ کے تحت پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس عائد اور زرعی شعبے کی ٹیکس چھوٹ ختم کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

لیٹرآف انٹینٹ کے مطابق اکتوبر سے پیٹرولیم مصنوعات پر 10.5 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا جس کے بعد پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس سے فی لیٹر قیمت میں 20 روپے تک اضافےکا امکان ہے۔

 

Related Posts