پاکستان تحریکِ انصاف کے کم از کم 2 سرکردہ سیاستدان اس وقت قید و بند کی صعوبتوں سے گزر رہے ہیں جن میں سے ایک کا تعلق پنجاب جبکہ دوسرے کا سندھ سے ہے۔ جی ہاں، آپ درست سمجھے۔ ہم بالترتیب شہباز گل اور حلیم عادل شیخ کی بات کر رہے ہیں۔ دونوں ہی پی ٹی آئی کے منجھے ہوئے کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں۔
شہباز گل کا پنجاب میں تعلق فیصل آباد سے ہے جو سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے دور میں ترجمان حکومتِ پنجاب اور پھر سابق وزیر اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی ابلاغ کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ سیاست کے علاوہ اگر شہباز گل کا کوئی اور میدانِ مہارت قرار دیا جاسکتا ہے تو وہ تعلیم ہوگا۔
دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف سندھ کے رہنما حلیم عادل شیخ ہیں جو اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان سے قبل اسی عہدے پر سابق صدر پی ٹی آئی کراچی فردوس شمیم نقوی بھی رہے تاہم آج کل اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کو قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما شہباز گل اور حلیم عادل شیخ کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی بعض ویڈیوز سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس نے مبینہ طور پر ان دونوں پی ٹی آئی رہنماؤں پر بالترتیب اسلام آباد اور کراچی میں بڑا تشدد کیا ہے جس کی تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے مذمت بھی کی جاتی رہی ہے اور ان رہنماؤں سے گاہے بگاہے یکجہتی کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔
گزشتہ روز بھی سابق گورنر سندھ اور پی ٹی آئی رہنما عمران اسماعیل نے کہا کہ حلیم عادل شیخ اور شہباز گِل کا قصور امپورٹڈ حکومت کے خلاف ڈٹ جانا ہے۔ ماضی میں ان حکمرانوں نے کئی سیاسی رہنماؤں کی زباں بندی کی۔ سندھ میں صحافیوں کا قتل کیا گیا لیکن ہم اس ظلم کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں کیونکہ جبر کی اندھیری رات جلد گزرنے والی ہے۔
سوشل میڈیا پر حلیم عادل شیخ پر کیے گئے تشدد کی ایک ویڈیو وائرل ہونے پر سابق وزیر اعظم عمران خان نے 2 روز قبل کہا کہ سندھ میں ہمارے قائدِ حزبِ اختلاف حلیم عادل شیخ پر تشدد کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ پاکستان مجرموں کے ایک گروہ کے نرغے میں ہے۔ یہ مافیاز خوب جانتے ہیں کہ انتخابات میں یہ اپنے سیاسی انجام کو پہنچیں گے۔
واضح رہے کہ عمران خان کے بیان میں مجرموں کے گروہ اور مافیاز سے مراد موجودہ مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت اتحادی حکومت ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ ہمارے لوگوں کو دھمکانے ککیلئے مافیاز کا سا ہر حربہ استعمال کیا جارہا ہے۔
شاید آپ کو یاد ہو کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور میں موجودہ وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیر اعظم شہباز شریف، ان کے صاحبزادے اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سمیت دیگر متعدد اپوزیشن رہنما پیشیاں بھگتتے پھر رہے تھے اور اس وقت سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی اداروں کو مقدمات ثابت کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے۔
آج کل کچھ ایسی ہی صورتحال سے پی ٹی آئی گزر رہی ہے۔ سیاسی مقدمات قائم کیے جاتے ہیں، پھر عدالت سیاستدانوں کو ریلیف دے دیتی ہے اور حکومت منہ دیکھتی رہ جاتی ہے۔ دور کیوں جائیں، عمران خان کو ایک ہی روز میں 2 کیسز میں ضمانت دے دی گئی۔ اگر نہ دی جاتی تو حکومت تو سابق وزیر اعظم کی گرفتاری کیلئے تیار بیٹھی تھی۔
عدالتوں کو عوام کو انصاف فراہم کرنے میں ناکامی کا سامنا اس لیے ہے کیونکہ ہر دوسرے روز کوئی نہ کوئی سیاستدان کسی نہ کسی عدالت کی زیارت کر رہا ہوتا ہے۔ مختلف عدالتوں کے ججز بشمول اسلام آباد ہائیکورٹ متعدد مواقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ عدالت سیاسی معاملات نمٹانے کیلئے درست فورم نہیں ہے۔
موجودہ وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ صاف کہہ چکے تھے کہ اگر عمران خان کی ضمانت منظور نہ ہوئی تو انہیں احاطۂ عدالت سے گرفتار کر لیا جائے گا، تاہم ایسا نہ ہوسکا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاستدان اپنے بکھیڑے عدالت کی چوکھٹ پر لے جانے کی بجائے انہیں افہام و تفہیم سے سلجھانے کی کوشش کریں۔