کانگریس کے سینئر رہنما پرتھوی راج چوہان نے آپریشن سندور کے پہلے ہی روز بھارتی فوج کے پاکستان سے مکمل طور پر شکست کھاجانے کا کھلے الفاظ میں اعتراف کیا ہے اور بعد ازاں دباؤ ڈالے جانے پر معافی مانگنے سے بھی انکار کردیاہے۔
یہی نہیں، بلکہ کانگریس کے سینئر رہنما اور بھارتی ریاست مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے بھارتی فوج کے وجود پر بھی سنگین سوالات اٹھا دئیے۔ بدھ کے روز پرتھوی راج چوہان نے آپریشن سندور کی مکمل تفصیلات پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
اپنے حالیہ بیان میں پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ میرے بیانات کو جان بوجھ کر توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے۔ مجھے سوال پوچھنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ میں معافی کیوں مانگوں؟ مخالفین عوام کی توجہ پارلیمنٹ میں پیش نیوکلیئر پراوٹائزیشن بل سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
اپنے گزشتہ بیان میں پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ آپریشن سندور کے پہلے ہی روز بھارت کو مکمل شکست ہوئی اور بھارتی فضائیہ کے طیارے مار گرائے گئے تھے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ آپریشن سندور کے پہلے ہی روز ہم ہار گئے چاہے لوگ اسے مانیں یا نہ مانیں۔
پریس کانفرنس کے دوران پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ 7تاریخ کو ہونے والی فضائی جھڑپ میں ہمیں مکمل شکست ہوئی۔ نہ صرف فضائیہ کے طیارے مار گرائے گئے بلکہ فضائیہ مکمل طور پر گراؤنڈ کردی گئی تھی اور ایک بھی طیارہ پرواز نہیں کرسکا۔ اگر کوئی طیارہ اڑان بھرتا تو پاکستان کی جانب سے مارگرائے جانے کا قوی امکان تھا۔
انہوں نے کہا کہ اب جنگیں زمین پر نہیں بلکہ فضا اور میزائلوں کے ذریعے لڑی جائیں گی۔ آپریشن سندور کے دوران ہم نے دیکھا کہ فوج نے ایک کلومیٹر بھی زمینی پیش قدمی نہیں کی۔ 2 سے 3روز میں مکمل طور پر فضائی اور میزائل جنگ لڑی گئی۔ مستقبل میں بھی ایسی جنگیں ہوں گی۔ کیا واقعی ہمیں 12لاکھ زمینی فوج برقرار رکھنے کی ضرورت ہے؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








