نجی ایئرلائن کا کارنامہ! کراچی کے شہری کو ویزا اور پاسپورٹ کے بغیر جدہ پہنچا دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

Private airline takes Karachi-bound passenger to Jeddah
ARY NEWS

لاہور ایئرپورٹ پر نجی ایئرلائن کی سنگین غفلت نے مسافر کو بغیر پاسپورٹ اور ویزا جدہ پہنچا کر نہ صرف ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا بلکہ ملکی ایوی ایشن سیکورٹی کے نظام پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

کراچی کے رہائشی ملک شاہ زین جو کہ ایک ماہ سے لاہور میں فیکٹری کے معاملات کے سلسلے میں مقیم تھے، 7 جولائی کو نجی ایئرلائن کی ایک ڈومیسٹک پرواز کے ذریعے کراچی واپس جانا چاہتے تھے لیکن وہ بغیر پاسپورٹ اور ویزے کے سعودی عرب کے شہر جدہ جا پہنچے۔

شاہ زین کے مطابق وہ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچے، بورڈنگ پاس حاصل کیا اور دیگر مسافروں کے ہمراہ جہاز کی جانب روانہ ہوئے۔

ایئرپورٹ پر رات ہونے اور روشنی ناکافی ہونے کے باعث قریب کھڑے دو جہازوں میں سے وہ غلطی سے انٹرنیشنل فلائٹ میں سوار ہو گئے جو دراصل جدہ جا رہی تھی۔

مسافر کے مطابق انہیں اندازہ تھا کہ پرواز کراچی تک تقریباً ایک گھنٹہ پندرہ منٹ کی ہو گی لیکن جب طیارہ دو گھنٹے سے بھی زائد پرواز کرتا رہا اور لینڈنگ نہ ہوئی تو انہوں نے عملے سے دریافت کیا۔

عملے نے جب ان کا بورڈنگ پاس دیکھا تو انہیں احساس ہوا کہ یہ تو لاہور سے کراچی کا ڈومیسٹک ٹکٹ ہے تاہم اب کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا کیونکہ طیارہ پاکستان کی فضائی حدود سے باہر جا چکا تھا۔

شاہ زین کو جدہ میں اتارا گیا، جہاں ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ اگلے روز8 جولائی کو انہیں جدہ سے دوبارہ لاہور بھیجا گیا جہاں مقامی امیگریشن حکام نے تفتیش کے بعد مسافر کو بے قصور قرار دیا اور نجی ایئرلائن کو ہدایت دی کہ انہیں منزل یعنی کراچی روانہ کیا جائے۔ یوں دو دن بعد وہ بالآخر کراچی پہنچ سکے۔

نجی ایئرلائن کی انتظامیہ نے واقعے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ایئرپورٹ پر تعمیراتی کام جاری ہے اور 8 جولائی کی رات 10 بجے کراچی اور جدہ کی پروازیں ایک ہی وقت پر روانہ ہو رہی تھیں جس کی وجہ سے یہ غلطی پیش آئی۔ ترجمان کے مطابق یہ واقعہ محض ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ترجمان نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اسٹیشن منیجر کو اس بارے میں خط ارسال کیا گیا ہے۔

خط میں ایئرلائن کی سنگین غفلت پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف فضائی سیکورٹی کے انتظامات پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ نجی ایئرلائنز کے اندرونی نظم و ضبط اور تربیت کے فقدان کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔

اس واقعے کو ایوی ایشن سیکٹر میں ایک الرٹ کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی خطرناک واقعے سے بچا جا سکے۔

Related Posts