وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کسان اتحاد کا احتجاج جاری ہے، مظاہرین نے وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ پر مذاکرات خراب کرنے اور کسانوں کو دھمکانے کا الزام عائد کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین کسان اتحاد خالد باٹھ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وزیر داخلہ کا رویہ پہلے جیسا نہیں رہا، انہوں نے ہم سے کہا کہ جو تیاری عمران خان کیلئے کرچکے، اس کا مظاہرہ آپ پر نہ ہوجائے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے مثبت ردِ عمل دیا۔
صدرِ مملکت کا ڈی جی پیمرا کو ملازمت سے برطرف کرنے کا حکم
چیئرمین کسان اتحاد نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے مظاہرین کو پیر کے روز مسائل کے حل کی یقین دہانی کرادی۔ کسان پیر کو نوٹیفکیشن لینے کے بعد ہی لوٹیں گے۔ مظاہرین نے پولیس پر کسانوں تک پانی نہ پہنچنے دینے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔
حال ہی میں اسلام آباد پولیس کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ کسان اتحاد کے مظاہرین لاٹھیاں اور پتھر اکٹھے کر رہے ہیں۔ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ بھی مظاہرین کیلئے ریڈ زون کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے مارچ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی سے خبردار کرچکے ہیں۔
دھرنے میں شرکت کیلئے پی ٹی آئی کی خواتین قیادت جب کسانوں کے پاس پہنچی تو مظاہرین نے ان سے درخواست کی کہ مطالبات کی منظوری کیلئے کسانوں کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ تاحال کسانوں کے مسائل حل نہیں کیے جاسکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








