اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا عمل بظاہر ناکامی کی طرف بڑھ رہا ہےجس کی وج ہ سے پارٹی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی تو مذاکرات کا سلسلہ ختم کر دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان 9 جنوری کو مذاکرات کا تیسرا دور متوقع تھا جس سے پہلے پی ٹی آئی نے اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کے ساتھ ایک محفوظ ملاقات کی درخواست کی تھی۔
حکومت نے پی ٹی آئی کو مطالبات تحریری طور پر جمع کرانے کا کہا لیکن پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر ایسا نہیں کرے گی۔
بدھ کے روز اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان اور سیاسی کمیٹی کے درمیان تفصیلی ملاقات وقت کی ضرورت ہے اور فی الحال دھرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما سردار لطیف کھوسہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان کو امریکی سفارتکار ڈونلڈ لو کے مشورے پر ہٹایا جا سکتا ہے تو امریکی صدر منتخب ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کی سب سے طاقتور شخصیت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت فارم 47 کی پیداوار ہے جبکہ 17 نشستوں والی پارٹی نے حکومت بنائی اور 180 نشستوں والا شخص جیل میں ہے۔
لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ حکمران ملک کو تباہی کے دہانے پر لے جا رہے ہیں اور عوام غربت کی دلدل میں مزید دھنس رہے ہیں۔ انہوں نے کہاجب حکومت کا کنٹرول نہیں تو ہم ان سے بات کیوں کریں؟۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








