پی ٹی آئی کا ملک گیر احتجاج شروع، دھرنے کا امکان، عمران خان کی رہائی کب متوقع؟

تازہ ترین

تازہ ترین

PTI launches 'nationwide' protests demanding release of Imran Khan
FILE PHOTO

اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما عمیر نیازی کے مطابق ابتدائی منصوبہ تھا کہ ارکان اسمبلی اپنے اپنے حلقوں میں سرگرمیاں کریں گے تاہم بعد ازاں فیصلہ ہوا کہ وفاقی دارالحکومت میں ایک متحدہ مظاہرہ کیا جائے گا۔ اسی سلسلے میں خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد سے اڈیالہ جیل راولپنڈی تک یکجہتی مارچ کا اعلان کیا گیا۔

پشاور میں علی امین گنڈاپور کی قیادت میں ریلی رنگ روڈ سے شروع ہوئی جو بالا حصار قلعہ پر اختتام پذیر ہو گی۔

لاہور میں پولیس نے احتجاج سے قبل احتیاطی اقدامات کے طور پر پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی سمیت چھ پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو حراست میں لے لیا۔

محمود اچکزئی، جنید اکبر اور سلمان اکرم راجہ سمیت دیگر رہنما پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔ پی ٹی آئی ارکان قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی شریک ہوئے جہاں انہوں نے اپنی گرفتاریوں کے خلاف آواز اٹھائی۔

پی ٹی آئی ایم این اے عامر ڈوگر نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ارکان کو صرف اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ اسمبلی ایک کٹھ پتلی تماشہ بن چکی ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت عوامی اجتماعات، دھرنوں اور مظاہروں پر پابندی عائد ہے۔ جڑواں شہروں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ حکام نے ایف 9 پارک میں جلسے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی کے عمیر نیازی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان نے واضح ہدایت دی ہے کہ اسلام آباد یا راولپنڈی میں کوئی بھی احتجاج بغیر مکمل رابطے کے نہ کیا جائے اور کارکنان کو اپنے مقامی علاقوں میں سرگرمیاں کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے ملتان سے ویڈیو پیغام میں کہا کہ 5 اگست کا احتجاج آئینی و جمہوری حق ہے۔

یہ تحریک جمہوریت، انسانی آزادی اور آئین کی بالادستی کے تحفظ کے لیے ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم متحد ہو کر ایک ایسا پاکستان بنائیں جہاں عوام کی آواز اور پارلیمنٹ کی بالادستی ہو۔

سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی مقام پر عوامی نظم و ضبط کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

حالات کشیدہ ہونے کی صورت میں ریڈ زون کی بندش کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر ارکان اسمبلی کو کسی مقام پر روکا گیا تو وہیں پر دھرنا دے دیا جائے گا۔

Related Posts