پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر منظرِ عام پر آ گئے ہیں جہاں بانی چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان اور پارٹی کی سینیٹر مشال یوسفزئی کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے مؤقف نے پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے۔
؎راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے کچھ رہنماؤں جن میں مشال یوسفزئی بھی شامل ہیں کو جان بوجھ کر استعمال کیا جا رہا ہے۔
مشعال یوسفزئی عمران خان کی خیر خواہ نہیں اس کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ ٹی وی پر بیٹھ کر جھوٹ بولو۔ اس کو اور مروت کو جوائنٹ ٹارگٹ (علیمہ خان) ملا ہوا ہے، علیمہ خان pic.twitter.com/l1dNYoQpbr
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) February 3, 2026
علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے جیل میں واضح طور پر کہا تھا کہ بعض افراد کو استعمال کرنے کے بعد سیاسی طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مشال یوسفزئی مخصوص ہدایات کے تحت بیانات دیتی ہیں اور انہیں بانی پی ٹی آئی کی حقیقی خیرخواہ نہیں سمجھتیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے اندر بعض فیصلے خاص طور پر حالیہ دھرنے اور پروگرامز، 8 فروری کے اہم ایونٹ سے توجہ ہٹانے کے لیے کیے گئے۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی سے زیادہ ان کی صحت اور علاج کو نظرانداز کیا جا رہا ہے جبکہ جیل انتظامیہ ملاقاتوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
دوسری جانب علیمہ خان کے بیانات پر سینیٹر مشال یوسفزئی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ مشال یوسفزئی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بیانات اور ویڈیوز مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ علیمہ خان کو میڈیا سے بات کرنے سے روکا گیا ہے اور اب صرف نورین نیازی ہی میڈیا پر پارٹی مؤقف پیش کریں گی۔
عمران خان کی بہنیں ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ عمران خان نے علیمہ خان کو میڈیا پر بات چیت کرنے سے سختی سے منع کیا ہے، مشال یوسفزئی https://t.co/w2xjFpnc52 pic.twitter.com/6ORUwopQff
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) February 3, 2026
مشال یوسفزئی نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی ان سے منسوب اسکرین شاٹس اور بیانات جعلی ثابت ہو چکے ہیں جن کی تصدیق خود عمران خان نے کی تھی۔ ان کے مطابق حالیہ بیان بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اور اصل توجہ عمران خان کی صحت اور شوکت خانم کے ڈاکٹروں کی ان تک رسائی پر ہونی چاہیے۔
پارٹی کے اندر اس کھلی بیان بازی نے تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے جس پر سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








