بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ کرانے سمیت دیگر مسائل پر پاکستان تحریکِ انصاف کے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر وزیر اعلیٰ کے پی کے سمیت پی ٹی آئی قائدین سراپا احتجاج ہیں۔ احتجاج کے پیشِ نظر راولپنڈی اسلام آباد میں دفعہ 144نافذ کردی گئی۔
سابق وزیراعظم عمران خان راولپنڈی کی تاریخی اڈیالہ جیل میں قید ہیں جبکہ حکام نے مظاہرین کو روکنے کیلئے سڑکوں کو کنٹینرز رکھ کر بند کردیا۔ اس موقعے پر پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے ہائی الرٹ ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کا تدارک کیاجاسکے۔
کون کون سی سڑکیں بند؟
اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق راولپنڈی اسلام آباد میں سڑکوں کی بندش کی تفصیلات دستیاب نہیں، تاہم پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر جو سڑکیں بند کی جاسکتی ہیں، اور متعدد کو ماضی میں پی ٹی آئی سمیت دیگر جماعتوں کے احتجاج کے پیش نظر بند کیا بھی گیا، ان کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:
راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کو جانے والے تمام راستوں کوکنٹینرز رکھ کر بند کیاجاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مری روڈ اور لیاقت باغ کے آس پاس کنٹینرز لگا کر راستے سیل کیے جاسکتے ہیں۔ شہر بھر میں 80 حساس مقامات پر چیک پوسٹس کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ہائیکورت کی جانب جانے والے تمام راستے بھی احتجاج کا مرکز ہونے کے باعث بند ہونے کے قوی امکانات ہیں جہاں پی ٹی آئی کارکنان کے اجتماع کا وعدہ کیا گیا تھا۔
ریڈ زون کو جانے والے تمام راستے بشمول سیرینا چوک، نادرا چوک، بری امام گیٹ، پریڈ ایونیو گیٹ کو بند کیاجاسکتا ہے جبکہ شاہین چوک تعمیراتی کام کے باعث جزوی طور پر بند ہوسکتا ہے۔ ٹریفک کو ایف 10سروس روڈ، ایف 8 پارک روڈ اور فیصل بی ظفر چوک کی جانب موڑے جانے کے امکانات ہیں۔
اسی طرح راولپنڈی سے اسلام آباد جانے والے راستے، خاص طور پر ایکسپریس وے اور سری نگر ہائی وے پر 135 بلاکیج پوائنٹس اور چیک پوسٹس کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے۔ راولپنڈی مین کچہری چوک تعمیراتی وجوہات کے باعث بند ہوسکتی ہے۔
عموماً ایسے حالات میں شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے ہدایت کی جاتی ہے کہ متبادل راستوں کا استعمال کریں جس کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








