گجرات: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی سے ہمارے حقیقی آزادی مارچ کا کوئی تعلق نہیں ہے، وہ ایک آئینی مدت ہے جس کا اختتام ہونا ہے۔
گجرات میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین نے کہا کہ انتخابات میں تاخیرسے معیشت گرے گی، ملک کو بحران سے نکالنے کا واحد راستہ نئے انتخابات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کے لیے بنیادی شرط معاشی سیکیورٹی ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح متاثر ہورہا ہے، تاجر برادری پاکستان میں پریشان ہے۔ سرمایہ کاری نہیں ہورہی، روپے کی قدر گرتی جارہی ہے۔
سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ عمران خان کا بیانیہ لوگوں کے دلوں میں اترگیا ہے۔ آپ نے گجرات اور وزیرآباد میں دیکھا۔ عمران خان پر حملہ ہوا اور کہا گیا کہ آپ گھر بیٹھ جائیں۔ گیلپ سروے کے مطابق پاکستان غلط سمت جارہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی لندن سے پاکستان روانگی ایک بار پھر موخر
انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ان کے اہلِ خانہ کو نہیں ملی لیکن تشدد کی خبریں میڈیا پر آتی ہیں۔ قوم جاننا چاہتی ہے کہ ارشد شریف کے ساتھ کیا ہوا؟ ارشد شریف کا لیپ ٹاپ اور فون کہاں ہےِ؟ دوسرا نکتہ اُن کی شہادت اور تحقیقات ہیں۔
وائس چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ایف آئی اے سے تعاون کے لیے تیار ہیں، مجھے ایف آئی نے پیشی کا نوٹس بھیجا، ایف آئی اے کو خط کے ذریعے کچھ سوالات کے جوابات پوچھے ہیں۔ تیسرا نکتہ سائفر کی شفاف تحقیقات ہیں۔ سپریم کورٹ سائفرکے معاملے کی تحقیقات کرائے۔ ایف آئی سائفر کے معاملے پرطلب کرتی ہے لیکن اب تک ہمیں سوالات کے جوابات نہیں ملے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چوتھا نکتہ کیا متاثرہ شخص کو اپنی مرضی کی ایف آئی آر کٹوانے کا حق نہیں ہے؟ پولیس کی مدعیت میں درج ایف آئی آرکی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ایف آئی آر کاغذ کا ٹکڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پیٹیشنز کی پیر کی صبح ساڑھے دس بجے رجسٹری میں درخواست جمع کرائیں گے۔ پیر کے روز سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں ہم پارلیمنٹیرنزجمع ہوں گے۔ ہمارے ارکانِ اسمبلی سپریم کورٹ رجسٹری میں دستخط شدہ پٹیشن دائر کریں گے۔ پٹیشن میں چار نکات شامل کیے جائیں گے۔
وائس چیئرمین تحریک انصاف نے پریس کانفرنس کے دوران اعظم سواتی کو انصاف فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








