پی ٹی آئی کارکن آپے سے باہر! شاہزیب خانزادہ اور انکی فیملی کو ہراسانی کا سامنا، ویڈیو دیکھیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

کراچی کے ایک شاپنگ مال میں معروف صحافی اور اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ کو تحریک انصاف کے کارکن کی جانب سے ہراساں کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مبینہ پی ٹی آئی کارکن شاہزیب خانزادہ سے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ سے متعلق ایک کیس پر رپورٹنگ کے لیے معافی مانگنے کا مطالبہ کررہا ہے۔

مبینہ پی ٹی آئی کارکن نے شاہزیب خانزادہ پر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی توہین کا الزام لگایا۔ خاص طور پر پرائم ٹائم شوز میں بشریٰ بی بی سے متعلق بات کرنے کو شرمناک قرار دیا۔

شاہزیب خانزادہ پی ٹی آئی کے کارکن کو انتہائی پرسکون انداز میں کہاکہ ہم تو صرف بات کرنا چاہتے ہیں،کسی کی توہین کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔مبینہ پی ٹی آئی کارکن نے بلند اور سخت آواز میں احتجاج کیا جبکہ شہزادہ خانزادہ نے خود کو سنبھالے رکھا اور پرسکون طریقے سے اس سے گفتگو کی۔

پاکستان کے معروف اور سینئر صحافیوں نے اس حرکت کو میڈیا کی آزادی کا قتل قرار دیا اور کہا کہ اگر صحافی سوال نہیں اٹھا سکیں گے تو جمہوریت کیسے بچے گی؟

صحافی مطیع اللہ جان نے کہا کہ عمران خان کے کارکنوں کو کچھ سیکھنا چاہیئے، اہل خانہ کے ہمراہ ایک صحافی کو یوں ہراساں کرنا انتہائی قابلِ مذمت فعل ہے۔

مطیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے کے سو مہذب طریقے ہیں۔ شاہ زیب خانزادہ نے حکومت اور اُسکے وزیروں کو بہت سے موقعوں پر لاجواب کیا ہے۔

احمد نورانی کا کہنا تھا کہ لوگوں کی فیملیز کو ہراساں کرتے ہوئے پی ٹی آئی والوں کو شرم آنی چاہیے۔اگر طاقتور فوجی جرنیلوں کو جواب نہیں دے سکتے تو عام لوگوں اور صحافیوں پر حملہ کرنے کا جواز ہی نہیں بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شاہزیب نے مسلسل ن لیگ پر تنقید ہی نہیں کی بلکہ ان کی بڑی بڑی وارداتوں کا جواب لیتے ہوئے شریف فیملی کو لاجواب کر دیا۔ ایسے میں جب باقی اینکرز شریف فیملی کی غلط کاریوں کے بارے میں صرف تبصرے اور سخت الفاظ استعمال کرتے تھے تو شاہزیب نے جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ کے سب سے بڑے فنانشیل اسکینڈل پر سلمان شہباز کو ساری دنیا کے سامنے ایکسپوز کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے فوج سے رومانوی تعلقات رکھنے کے بارے میں دہرے معیار کو عیاں کرنا یقیناً ضروری ہی نہیں بلکہ ہر صحافی کی صحافتی ذمہ داری بھی ہے اور یہی شائزیب نے بھی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ شاہزیب خانزادہ اور ان کے گھر کی خواتین کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے رنجیدہ کر دیا۔ جو بھی لوگ دوسروں کی فیمیلیز اور خواتین کی ہراسانی میں ملوث ہیں انہیں نشان عبرت بنا دیا جانا چاہیے۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم پاکستان) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی فیصل سبزواری نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معتبر،غیر جانبدار،ذہین،قابل، جراتمند صحافتی شخصیات میں سے نمایاں ترین شاہزیب خانزادہ کے ساتھ بدگوئی اور بدتمیزی وہ بھی ان کے گھر کی خواتین کی موجودگی میں کرنے والے گزشتہ دہائی کی سیاست میں مزید پنپنے والی غلاظت کی جھلک ہے۔

دوسری جانب عمران خان اور تحریک انصاف سے منسلک بہت سے رہنما اور کارکنان شاہزیب خانزادہ اور ان کی فیملی کو ہراساں کرنے والے کارکن کی تعریف کرتے نظر آرہے ہیں جبکہ عام شہریوں نے اسے پی ٹی آئی کی غنڈہ گردی قرار دیا ہے۔

قانونی ماہر کے مطابق یہ عوامی جگہ پر ہراسانی کا کیڈر بنتا ہے، قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔یہ واقعہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی پر بڑھتے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

Related Posts