کراچی کے ایک شاپنگ مال میں معروف صحافی اور اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ کو تحریک انصاف کے کارکن کی جانب سے ہراساں کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مبینہ پی ٹی آئی کارکن شاہزیب خانزادہ سے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ سے متعلق ایک کیس پر رپورٹنگ کے لیے معافی مانگنے کا مطالبہ کررہا ہے۔
مبینہ پی ٹی آئی کارکن نے شاہزیب خانزادہ پر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی توہین کا الزام لگایا۔ خاص طور پر پرائم ٹائم شوز میں بشریٰ بی بی سے متعلق بات کرنے کو شرمناک قرار دیا۔
شاہزیب خانزادہ پی ٹی آئی کے کارکن کو انتہائی پرسکون انداز میں کہاکہ ہم تو صرف بات کرنا چاہتے ہیں،کسی کی توہین کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔مبینہ پی ٹی آئی کارکن نے بلند اور سخت آواز میں احتجاج کیا جبکہ شہزادہ خانزادہ نے خود کو سنبھالے رکھا اور پرسکون طریقے سے اس سے گفتگو کی۔
پاکستان کے معروف اور سینئر صحافیوں نے اس حرکت کو میڈیا کی آزادی کا قتل قرار دیا اور کہا کہ اگر صحافی سوال نہیں اٹھا سکیں گے تو جمہوریت کیسے بچے گی؟
صحافی مطیع اللہ جان نے کہا کہ عمران خان کے کارکنوں کو کچھ سیکھنا چاہیئے، اہل خانہ کے ہمراہ ایک صحافی کو یوں ہراساں کرنا انتہائی قابلِ مذمت فعل ہے۔
عمران خان کے حمایتیوں کو کچھ سیکھنا چاہیئے، اہل خانہ کے ہمراہ ایک صحافی کو یوں حراساں کرنا انتہائی قابلِ مذمت فعل ہے۔ احتجاج کرنے کے سو مہذب طریقے ہیں۔ شاہ زیب خانزادہ نے حکومت اور اُسکے وزیروں کو بہت سے موقعوں پر لاجواب کیا ہے۔ #IstandWithShahzebKhanzada https://t.co/be6WF0LNx5
— Matiullah Jan (@Matiullahjan919) November 16, 2025
مطیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے کے سو مہذب طریقے ہیں۔ شاہ زیب خانزادہ نے حکومت اور اُسکے وزیروں کو بہت سے موقعوں پر لاجواب کیا ہے۔
احمد نورانی کا کہنا تھا کہ لوگوں کی فیملیز کو ہراساں کرتے ہوئے پی ٹی آئی والوں کو شرم آنی چاہیے۔اگر طاقتور فوجی جرنیلوں کو جواب نہیں دے سکتے تو عام لوگوں اور صحافیوں پر حملہ کرنے کا جواز ہی نہیں بنتا ہے۔
شاہزیب خانزادہ کے بارے میں تو میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ ان سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے مگر۔۔۔
شاہزیب خانزادہ کے پروگرام کا مستقل ناظر ہوں اور ان سے اختلاف کرنا مشکل ہوتا ہے۔ شاہزیب اپنے ادارے کے شاید وہ واحد صحافی ہیں جنہوں نے جیو اور جنگ گروپ کے مکمل طور پر فوج کا “اے آر…
— Ahmad Noorani (@Ahmad_Noorani) November 16, 2025
انہوں نے کہا کہ شاہزیب نے مسلسل ن لیگ پر تنقید ہی نہیں کی بلکہ ان کی بڑی بڑی وارداتوں کا جواب لیتے ہوئے شریف فیملی کو لاجواب کر دیا۔ ایسے میں جب باقی اینکرز شریف فیملی کی غلط کاریوں کے بارے میں صرف تبصرے اور سخت الفاظ استعمال کرتے تھے تو شاہزیب نے جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ کے سب سے بڑے فنانشیل اسکینڈل پر سلمان شہباز کو ساری دنیا کے سامنے ایکسپوز کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے فوج سے رومانوی تعلقات رکھنے کے بارے میں دہرے معیار کو عیاں کرنا یقیناً ضروری ہی نہیں بلکہ ہر صحافی کی صحافتی ذمہ داری بھی ہے اور یہی شائزیب نے بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ شاہزیب خانزادہ اور ان کے گھر کی خواتین کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے رنجیدہ کر دیا۔ جو بھی لوگ دوسروں کی فیمیلیز اور خواتین کی ہراسانی میں ملوث ہیں انہیں نشان عبرت بنا دیا جانا چاہیے۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم پاکستان) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی فیصل سبزواری نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معتبر،غیر جانبدار،ذہین،قابل، جراتمند صحافتی شخصیات میں سے نمایاں ترین شاہزیب خانزادہ کے ساتھ بدگوئی اور بدتمیزی وہ بھی ان کے گھر کی خواتین کی موجودگی میں کرنے والے گزشتہ دہائی کی سیاست میں مزید پنپنے والی غلاظت کی جھلک ہے۔
پاکستان کی معتبر،غیر جانبدار،ذہین،قابل،جراتمند،معتبر ترین صحافتی شخصیات میں سے نمایاں ترین @shazbkhanzdaGEO کے ساتھ بدگوئی اور بدتمیزی وہ بھی ان کے گھر کی خواتین کی موجودگی میں کرنے والے گذشتہ دہائی کی سیاست میں مزید پنپنے والی غلاظت کی جھلک ہے۔
جب قومی رہنما گالی بریگیڈ کو…— Faisal Subzwari (@faisalsubzwari) November 16, 2025
دوسری جانب عمران خان اور تحریک انصاف سے منسلک بہت سے رہنما اور کارکنان شاہزیب خانزادہ اور ان کی فیملی کو ہراساں کرنے والے کارکن کی تعریف کرتے نظر آرہے ہیں جبکہ عام شہریوں نے اسے پی ٹی آئی کی غنڈہ گردی قرار دیا ہے۔
قانونی ماہر کے مطابق یہ عوامی جگہ پر ہراسانی کا کیڈر بنتا ہے، قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔یہ واقعہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی پر بڑھتے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








