پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں نے متنازع پس منظر کی وجہ “مشن نور مہم” کی مخالفت کا اعلان کردیا۔
سابق صدر مملکت اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما ڈاکٹر عارف علوی، سینئر رہنما حلیم عادل شیخ اور علی محمد خان نے مشن نور کو قادیانی پس منظر کی وجہ سے غلط قرار دے دیا ہے۔
دوسری طرف پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے بھی اس کی شدید مخالفت کی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی اس مہم کا نام متنازع ہے کیونکہ اس کا ایک متنازع مذہبی گروہ کے ساتھ قریبی تعلق جڑتا ہے۔ سینئر رہنما نے اپنی جماعت سے مطالبہ کیا کہ اس کا نام بدل کر “مجھے ہے حکمِ اذاں” رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ کسی نے یہ نام جان بوجھ کر رکھا ہو یا انجانے میں، بہرحال یہ قابلِ قبول نہیں۔
پی ٹی آئی کا مشن نور کیا ہے؟
پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے شروع کی گئی یہ ایک مہم ہے جو عقیدے کو سیاسی مزاحمت کے ساتھ جوڑتی ہے۔ اس کے تحت پاکستانیوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ایک مقررہ وقت پر اپنی چھتوں پر کھڑے ہو کر اذان دیں تاکہ پرامن اور روحانی احتجاج کے ذریعے موجودہ حکومت کو “فاشسٹ رجیم” قرار دیتے ہوئے اپنی مخالفت ظاہر کریں۔
اس مشن کا مقصد اللہ سے دعا کرنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان، جو 2023 سے قید ہیں، کو رہائی ملے اور اس سیاسی نظام کے خلاف مزاحمت کی جائے جسے پی ٹی آئی کے حامی دھاندلی زدہ اور ناانصافی پر مبنی قرار دیتے ہیں۔
یہ متنازع کیوں ہے؟
سوشل میڈیا پر بعض پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے “مشن نور” کا تعلق قادیانیت (احمدیہ جماعت) سے جوڑا جا رہا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ “نور” کا لفظ حکیم نورالدین کی طرف اشارہ کرتا ہے جو احمدیہ جماعت کے بانی مرزا غلام احمد کے پہلے خلیفہ تھے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ “نور” کے نام کا استعمال اور “مشن نور” کے تحت کیے جانے والے اجتماعی معمولات احمدیہ جماعت سے مشابہت رکھتے ہیں، جس کی بنیاد پر اسے قادیانیت کے ساتھ علامتی طور پر جوڑنے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








