وفاقی حکومت نے ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، جس کا باضابطہ اعلان کل متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اسمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق جامع پلان تیار کر لیا گیا ہے، جس کا مقصد توانائی اور فیول وسائل کی بچت کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوں کو جزوی طور پر جاری رکھنا ہے۔
مجوزہ پلان کے تحت بازار اور شاپنگ سینٹرز رات ساڑھے نو بجے جبکہ شادی ہالز اور فنکشنز رات 10 بجے تک بند کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ شادی تقریبات کو ون ڈش تک محدود رکھنے اور زیادہ سے زیادہ 200 افراد کی شرکت کی اجازت ہوگی۔
تعلیمی اداروں کے لیے ہائبرڈ نظام متعارف کرانے کی تجویز ہے، جس کے تحت اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز ہفتے میں تین دن آن لائن اور تین دن فزیکل کلاسز لیں گے، جبکہ ابتدائی طور پر مزید 15 دن مکمل آن لائن تعلیم جاری رکھنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
سرکاری دفاتر میں ہائبرڈ ورکنگ ماڈل ایک ماہ کے لیے نافذ کرنے کی تجویز ہے۔ پانچ روزہ ورکنگ والے دفاتر ہفتے میں تین دن صبح 8:30 سے سہ پہر 3 بجے تک کھلے رہیں گے جبکہ باقی دو دن آن لائن کام ہوگا۔ چھ روزہ سروسز دفاتر چار دن صبح 8:30 سے دوپہر 1:30 بجے تک کھلے رہیں گے اور دو دن آن لائن کام کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ 50 فیصد روٹا سسٹم نافذ کیا جائے گا تاکہ آمدورفت میں کمی لائی جا سکے۔
آن لائن حاضری کے لیے باقاعدہ مانیٹرنگ سسٹم قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ہر افسر کے لیے کم از کم 65 فیصد حاضری لازمی قرار دی جائے گی۔ ہفتہ وار آڈٹ کے ذریعے دفاتر اور آن لائن ورکنگ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔
پرائیویٹ دفاتر میں بھی 50 فیصد آن لائن ورکنگ لازمی قرار دینے کی تجویز ہے تاکہ فیول اور بجلی کی بچت ممکن ہو سکے۔ سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر بھی سخت پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کے تحت غیر ضروری استعمال پر تین ماہ کے فیول کی ریکوری اور گاڑی ضبطی کی سزا دی جا سکتی ہے۔
توانائی بچت کے لیے صبح 10:30 بجے سے پہلے اے سی کے استعمال پر پابندی عائد کرنے اور 60 دن کے اندر 50 فیصد سرکاری دفاتر کو سولر توانائی پر منتقل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مزید برآں، بجلی اور فیول سے متعلق رعایات میں اگلے تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کی تجویز ہے تاکہ اخراجات پر قابو پایا جا سکے۔ مالی اقدامات کے تحت انٹرنیٹ اور ٹیلیفون ٹیکس میں معمولی کمی جبکہ پراپرٹی اور گاڑیوں کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے توانائی بحران پر قابو پانے اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








