پاکستان کے بینکاری نظام میں گھریلو صارفین اور انفرادی کھاتہ داروں کا نمایاں کردار سامنے آیا ہے، کیونکہ اب ذاتی ڈپازٹس ملک کے مجموعی بینک ڈپازٹس کا تقریباً نصف ہو گئے ہیں۔
تازہ سامنے آنے والے یہ اعداد و شمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈیٹا کی بنیاد پر ٹاپ لائن ریسرچ نے مرتب کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگست 2025 تک مجموعی ڈپازٹس 33.8 کھرب روپے تھے، جن میں سے 49.4 فیصد یعنی 16 کھرب روپے سے زائد انفرادی کھاتہ داروں کے تھے۔ ان میں تنخواہ دار طبقہ، خود مختار پیشہ ور افراد، گھریلو خواتین، طلبہ اور دیگر شامل ہیں۔
نجی شعبہ (کاروباری ادارے) مجموعی ڈپازٹس میں 20.3 فیصد کا حصہ ڈال رہا ہے، جو 6.8 کھرب روپے بنتا ہے۔
اسی دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ڈپازٹس 15.2 فیصد رہے، نان ریزیڈنٹ ڈپازٹس (غیر مقیم پاکستانیوں کے) 3 فیصد رہے، جبکہ باقی 12 فیصد “دیگر” کیٹیگری میں شامل کیے گئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








