پنجاب پولیس کا غریب شہریوں پر تشدد، اسلام آباد میں بگڑے رئیس زادے کے ہاتھوں ٹریفک ورڈنز کی پٹائی، وائرل ویڈیوز

تازہ ترین

تازہ ترین

Public outrage as videos show police brutality and Islamabad elite assaulting traffic wardens
ONLINE

پاکستان میں ایک بار پھر طاقت کے غیر متوازن استعمال اور قانون کے دوہرے معیار نے عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مختلف ویڈیوز نے عوامی غصے کو بھڑکا دیا ہے جن میں ایک جانب پنجاب پولیس کے اہلکاروں کو غریب شہریوں پر تشدد کرتے دیکھا گیا ہے جبکہ دوسری جانب اسلام آباد میں ایک رئیس زادے کو ٹریفک وارڈنز کو زد و کوب کرتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

 

بتایا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ اسلام آباد کے سیکٹر آئی 8 کا ہے جہاں ایک اوباش نوجوان نے تین ٹریفک وارڈنز کو سڑک کے بیچوں بیچ مارا پیٹا۔

عینی شاہدین کے مطابق اگر یہی واقعہ کسی کمزور یا غریب شہری کے ساتھ پیش آتا تو اب تک وہ حوالات میں بند یا بری طرح زخمی ہوتا۔ عوامی ردِعمل میں لوگوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کیوں قانون صرف کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ہو جاتا ہے؟

عوام نے اس عمل کو وردی کا نشہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کئی اہلکار اپنی ذمہ داری کے بجائے طاقت کے غلط استعمال میں ملوث ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین نے ان ویڈیوز پر سخت ردعمل دیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ اسلام آباد میں رہنے والے رئیس زادے خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، ان کے لیے وردی یا قانون کی کوئی حیثیت نہیں۔

ایک اور صارف نے کہا کہ اگر یہی شخص کسی عام شہری کی جگہ ہوتا تو پولیس فوراً کارروائی کرتی لیکن یہاں خاموشی دیکھی جا رہی ہے۔

ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پولیس اہلکار نے ایک بزرگ شہری کے ساتھ انتہائی بدسلوکی کی۔ واقعہ راولپنڈی میں پیش آیا جہاں پولیس اہلکار کو اپنی وردی کی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

کچھ صارفین نے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اکثر اوقات ٹریفک وارڈنز کا رویہ بھی شہریوں کے ساتھ تضحیک آمیز ہوتا ہے۔ ایک رائے یہ سامنے آئی کہ جب نچلے درجے کے اہلکار عوام سے بدتمیزی کرتے ہیں تو ردعمل میں ایسے ناخوشگوار واقعات جنم لیتے ہیں۔

ان ویڈیوز کے بعد عوامی سطح پر ایک بار پھر یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ پاکستان میں قانون صرف کمزوروں کے لیے سخت ہے جبکہ طاقتور طبقہ ہمیشہ بچ نکلتا ہے۔

Related Posts