عوام کے دباؤ نے سندھ حکومت کو ہلا دیا! 90 دن کی ڈیڈ لائن جاری

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ کراچی کی یونیورسٹی روڈ کو 90 دن کے اندر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے اس منصوبے میں تاخیر کے باعث شہریوں کو درپیش مشکلات پر معذرت بھی کی جو بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کی سست رفتاری کی وجہ سے پیدا ہوئیں۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب شہر کی اس اہم شاہراہ کو استعمال کرنے والے شہریوں کو روزمرہ شدید پریشانی کا سامنا ہے اور حکومت پر تنقید بڑھتی جا رہی ہے۔ بی آر ٹی ریڈ لائن ایک ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے چلنے والا منصوبہ ہے تاہم یونیورسٹی روڈ کی مرمت سندھ حکومت اپنے وسائل سے الگ طور پر کرے گی۔

کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ یہ فیصلہ عوامی شکایات اور شہریوں کو درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ صوبائی حکومت نے سڑک کی تعمیر نو کو ریڈ لائن منصوبے سے الگ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کے مطابق منصوبہ یہ ہے کہ صفورا چورنگی سے نمائش تک یونیورسٹی روڈ کے اس حصے کو دوبارہ بنایا جائے جہاں عام ٹریفک چلتی ہے تاکہ بی آر ٹی کے کام کے دوران بھی شہری اس راستے کو استعمال کر سکیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اس منصوبے میں نہ صرف سڑک کی تعمیر شامل ہوگی بلکہ نکاسی آب کا موثر نظام بھی نصب کیا جائے گا جس سے ٹریفک کی روانی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے یونیورسٹی روڈ پر کام میں تاخیر پر شہریوں سے معذرت کی اور یقین دہانی کروائی کہ تین ماہ میں مخلوط ٹریفک کے لیے سڑک بحال کر دی جائے گی۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ تاخیر کے باعث کراچی کے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم حکومت عوامی مسائل حل کرنے اور منصوبے کو جلد مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

مراد علی شاہ نے یہ بھی بتایا کہ ریڈ لائن کے مرکزی حصے کے لیے لاٹ ٹو کا ٹینڈر دوبارہ جاری کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف ڈبلیو او کے حکام سے بات چیت ہو چکی ہے اور انہوں نے یقین دہانی کروائی ہے کہ دو سے تین دن میں تعمیراتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ مخلوط ٹریفک کا یہ حصہ تقریباً 12 کلومیٹر پر محیط ہے اور امید ظاہر کی کہ اس کی بحالی تین ماہ میں مکمل ہو جائے گی۔ ان کے مطابق سندھ حکومت سے عوام کی توقعات بہت زیادہ ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ نے مزید بتایا کہ اگرچہ لاٹ ٹو کا معاہدہ چار سال پہلے دیا گیا تھا مگر کام کا معیار تسلی بخش نہیں رہا۔ انہوں نے اس صورتحال کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اب منصوبے کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے گا اور رفتار بڑھانے کے لیے عید کی تعطیلات میں بھی کام جاری رکھا جائے گا۔

یہ پیش رفت سندھ حکومت کے اس حالیہ فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں موسمیات سے نمائش تک ریڈ لائن پر کام کرنے والی ایک کمپنی کا معاہدہ سست روی اور ناقص کارکردگی کے باعث ختم کر دیا گیا تھا۔

Related Posts