اس آسان عادت سے دباؤ، بے چینی اور بیماریوں سے نجات ممکن! جانیں مکمل تفصیل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

گہری سانس لینا ایک آسان مگر موثر طریقہ ہے جو ذہنی سکون فراہم کرتا ہے اور مجموعی صحت کو بہتر بناتا ہے۔ اس کے جسم پر کئی مثبت اثرات ہوتے ہیں جن میں مدافعتی نظام کو مضبوط کرنا اور نظامِ ہاضمہ کی کارکردگی کو بہتر بنانا شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ گہری سانس لینا ذہنی دباؤ اور بے چینی کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب کوئی شخص تناؤ یا گھبراہٹ محسوس کرتا ہے تو گہری سانس لینے سے جسم کا پیراسیمپیتھٹک نروس سسٹم متحرک ہو جاتا ہے جو جسم کو پُرسکون بناتا ہے اور فائٹ یا فلائٹ ردعمل کو کم کرتا ہے۔ آہستہ اور گہری سانس لینے سے بلڈ پریشر کم ہو سکتا ہے، دل کی دھڑکن معتدل ہو جاتی ہے اور سکون کا احساس بڑھتا ہے۔

یہ عمل ذہنی صحت میں بھی بہتری لاتا ہے۔ قابو میں رکھ کر سانس لینے سے دماغ کو سکون ملتا ہے اور توجہ میں اضافہ ہوتا ہے خاص طور پر ایسے اوقات میں جب انسان شدید دباؤ یا زیادہ کام کے بوجھ کا شکار ہو۔

گہری سانس لینے کو مضبوط مدافعتی نظام سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ یہ سفید خون کے خلیات کی تعداد بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے، جو جسم کو انفیکشن اور بیماریوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

سانس کی صحت پر بھی اس کے مثبت اثرات پڑ سکتے ہیں۔ جب ڈایافرام کی مدد سے زیادہ گہری سانس لی جاتی ہے تو پھیپھڑے زیادہ پھیلتے ہیں اور زیادہ آکسیجن جذب کرتے ہیں۔ اس سے دمہ یا دائمی سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو فائدہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق گہری سانس لینا بہتر نیند میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جو لوگ سونے میں دشواری محسوس کرتے ہیں یا رات کو بار بار جاگ جاتے ہیں وہ سانس کی مشقوں سے سکون پا سکتے ہیں کیونکہ یہ جسم کو آرام کی حالت میں لے آتی ہیں۔ یہ نیند سے متعلق مسائل میں سانس کے نظام کو بھی متوازن کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

نظامِ ہاضمہ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ذہنی دباؤ اور بے چینی ہاضمے کے عمل کو سست کر دیتے ہیں کیونکہ یہ فائٹ یا فلائٹ ردعمل کو متحرک کرتے ہیں۔ گہری سانس لینے سے پیراسیمپیتھٹک نظام فعال ہوتا ہے جو جسم کو آرام دیتا ہے اور ہاضمہ بہتر بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔

گہری سانس لینے کی مشق کے لیے چند آسان طریقے اپنائے جا سکتے ہیں۔ کسی آرام دہ جگہ پر بیٹھ جائیں یا لیٹ جائیں، کندھوں کو ڈھیلا رکھیں اور ریڑھ کی ہڈی سیدھی رکھیں۔ آنکھیں بند کر کے ناک کے ذریعے آہستہ اور گہری سانس لیں تاکہ پھیپھڑے مکمل طور پر بھر جائیں۔ کچھ لمحے سانس روکنے کے بعد منہ کے ذریعے آہستہ آہستہ خارج کریں۔ اس عمل کو چند منٹ تک دہرایا جا سکتا ہے۔

Related Posts