انڈونیشین عدالت نے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے پر معروف ٹک ٹاکر کو 2 سال قید اور بھاری جرمانہ ادا کرنے کا حکم سنا دیا ہے۔
انڈونیشیا کے جنوبی صوبے سماٹرا کی پالیمبانگ عدالت نے ٹک ٹاک ٹاکر لینا لتفیاوتی کو توہین مذہب کے کیس میں قصور وار ٹھہراتے ہوئے سزا سنائی ہے۔
مذکورہ ٹک ٹاکر کی جانب سے ویڈیو اپلوڈ کی گئی تھی، جس میں وہ مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے سور کا گوشت کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کا کہہ رہی تھی۔
خاتون ٹک ٹاکر کی اس ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی، جبکہ کئی فیس بک اور ٹک ٹاک صارفین نے اسے شہرت حاصل کرنے کے لیے اسٹنٹ قرار دے دیا تھا۔
عدالت کی جانب سے فیصلہ سناتے ہوئے خاتون ٹک ٹاکر کو 2 سال قید اور ساتھ ہی 250 ملین روپیہ جرمانہ جو پاکستانی 45 لاکھ سے زائد کی رقم بنتی ہے، ادا کرنے ہوں گے۔
انڈونیشین میڈیا کے مطابق لینا لتفیاوتی جو خود بھی مسلمان ہی ہیں، کی جانب سے مذکورہ ویڈیو مارچ میں اپلوڈ کی گئی تھی۔
خاتون ٹک ٹاکر کا عدالتی فیصلے پر کہنا تھان کہ میں حیران ہوں، میں نے کئی مرتبہ معافی مانگی ہے۔ دراصل مجھے علم ہے کہ میں غلط ہوں، مگر مجھے یہ امید نہیں تھی کہ مجھے 2 سال قید کی سزا ملے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








