پنجاب معصوم بچوں کیلئے جہنم؟ 6 ماہ میں 4 ہزار بچے مظالم کا شکار! خوفناک اعداد و شمار منظر عام پر

تازہ ترین

تازہ ترین

اسسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) نے اپنی ہوش ربا فیکٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں سال 2025 کے پہلے چھ ماہ (جنوری تا جون) کے دوران پنجاب بھر میں بچوں پر تشدد کے 4,150 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔ یعنی ہر روز اوسطاً 23 معصوم بچے جنسی تشدد، جسمانی تشدد، اغوا، انسانی تجارت، جبری مزدوری یا دیگر مظالم کا شکار بنے۔

سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان ہزاروں کیسز میں سے صرف 8 یا 9 کیسز میں ہی سزا ہو سکی، یعنی مجموعی سزا کی شرح 0.2 فیصد سے بھی کم ہے۔باقی 91 فیصد کیسز ابھی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں جبکہ کئی کیٹیگریز میں سزا کی شرح بالکل صفر رہی۔

تشدد کی سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والی اقسام

جنسی تشدد: 717 کیسز (سب سے زیادہ)

جبری بھکاری بنانا اور بچوں کی مزدوری: 1,700 سے زائد کیسز

انسانی تجارت: 588 کیسز

جسمانی تشدد: 87 کیسز

بچوں کی شادی، فحش نگاری اور قتل کے واقعات بھی درجنوں میں

سب سے زیادہ کیسز لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی اور سیالکوٹ میں رپورٹ ہوئے۔

ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کامران رضوی کا بیان

یہ اعداد و شمار صرف آئس برگ کا سرا ہیں جبکہ اصل تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے کیونکہ دیہی علاقوں اور غریب بستیوں میں زیادہ تر کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ جب تک مجرم کو سخت اور فوری سزا نہیں ملے گی، تشدد کرنے والوں کی ہمت بڑھتی رہے گی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب حکومت فوری طور پر فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرے جبکہ پولیس میں خصوصی سیل بنائے اور بچوں کے تحفظ کے لیے بجٹ میں کئی گنا اضافہ کرے۔

رپورٹ کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پنجاب میں بچوں کے خلاف تشدد کا یہ سلسلہ مزید خوفناک صورت اختیار کر لے گا۔

Related Posts