ایل ڈی اے کی جانب سے انسداد تجاوزات کے نام پر لاہور کی بھٹی برڈ مارکیٹ کو مسمار کرنے پر پنجاب حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے، عوام نے اس کارروائی کو جانوروں پر ظلم قرار دیا ہے۔
تاریخی بھٹی برڈ مارکیٹ کو حکومت نے تجاوزات کے خاتمے کی مہم کے دوران مسمار کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق اس عمل سے کئی جانوروں کو نقصان پہنچا اور تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ انہیں جانوروں اور سامان کو نکالنے کے لیے مناسب وقت نہیں دیا گیا، حالانکہ معاوضے کے بارے میں بات چیت جاری تھی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ دکانداروں کو اس آپریشن کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا اور انہیں متعدد نوٹس دیے گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق آپریشن کے دوران جس میں بھاری مشینری استعمال ہوئی، سیکڑوں پرندے اور دیگر پالتو جانور (بلیاں، خرگوش اور کتے) ملبے تلے دب گئے۔
تاجروں نے حکومت پر مالی نقصان اور جانوروں کی ہلاکت کا الزام بھی لگایا اور اسے “ریماڈلنگ پراجیکٹ” کا بہانہ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دکانیں غیر قانونی طور پر 16 کنال سرکاری زمین پر قائم تھیں، جو بھٹی چوک کے ریماڈلنگ پراجیکٹ کے لیے ضروری تھی، جس کا مقصد ٹریفک جام اور آلودگی کو کم کرنا ہے۔
اس واقعے پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل آیا، اور صارفین و سرگرم افراد نے اس عمل کو “ظالمانہ” اور “غیر انسانی” قرار دیا۔
جانوروں کی بحالی کے اداروں اور مشہور شخصیات نے بھی حکام کی مبینہ لاپروائی کی سخت مذمت کی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
تاجروں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ وہ مداخلت کریں، ان کے لاکھوں روپے کے نقصان کا معاوضہ فراہم کریں، اور ملوث حکام کے خلاف کارروائی کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








