حکومت کی دھمکی کام کر گئی، پنجاب کی آدھی سے زیادہ شوگر ملز چل پڑیں

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی تصویر

حکومت نے ڈنڈا اٹھالیا، کارروائی کے اعلان کے بعد صوبے کی نصف سے زیادہ شوگر ملز نے کرشنگ شروع کر دی۔

تفصیلات کے مطابق کین کمشنر پنجاب کا کہنا ہے کہ پنجاب میں 27 شوگر ملز نے کرشنگ کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ باقی 14 ملز کی آج چیکنگ کی جائے گی اور کارروائی شروع ہو گی۔

کین کمشنر کے مطابق آج سے کرشنگ شروع نہ کرنے والی شوگر ملز کے خلاف ایکشن پلان تیار کر لیا گیا ہے اور جو ملز کرشنگ شروع نہیں کریں گی ان پر روزانہ 10 لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔

کرشنگ سیزن کی نگرانی کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ کسانوں کو گنے کی بروقت ادائیگی بھی یقینی بنائی جائے گی، جبکہ مارکیٹ میں نئی چینی کی سپلائی آنے سے قیمت میں کمی کا امکان ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ وقت پر کرشنگ شروع نہ ہونے کی وجہ سے کسان گنا فروخت نہیں کر پاتے اور چینی کی ریکوری بھی کم ہوتی ہے۔ کسانوں کو ان کے گنے کی مناسب قیمت بھی نہیں ملتی۔

کرشنگ نہ ہونے کی وجہ سے کسانوں کو مجبوراً اپنی فصل کہیں اور بیچنا پڑتی ہے تاکہ وہ خراب نہ ہو۔ تاخیر سے ادائیگی کی وجہ سے کسانوں کو اگلی فصل کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دوسری جانب شوگر ملز کے دیر سے کرشنگ شروع کرنے سے مارکیٹ میں چینی کی سپلائی کم ہو جاتی ہے اور قلت پیدا ہونے لگتی ہے۔ سپلائی کم اور طلب زیادہ ہونے کے باعث چینی مہنگی ہو جاتی ہے۔

Related Posts