پنجاب حکومت نے گرانفروشی کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کرتے ہوئے جرمانوں کے بجائے گرفتاریوں اور دکانوں کو سیل کرنے پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ حکام کے مطابق اگر آٹے کا معیار تسلی بخش نہ پایا گیا تو متعلقہ فلور مل کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔ رمضان سہولت بازاروں کی کارکردگی پر شہریوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور قیمتوں میں کمی کو سراہا ہے۔
راولپنڈی کے چوہڑ بازار کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰ کی معاون خصوصی سلمیٰ بٹ نے کہا کہ شہر میں چالیس ہزار گھرانوں کو نگہبان کارڈ فراہم کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے مستحق افراد کو ان کی دہلیز پر دس ہزار روپے تک کی امداد پہنچائی جا رہی ہے۔ سہولت بازاروں کے ساتھ ساتھ سترہ ہزار کریانہ اسٹورز کو بھی نگہبان کارڈ پروگرام سے منسلک کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
پنجاب حکومت کے فیصلے کے تحت سبزیوں، دالوں اور پھلوں کی قیمتوں میں دس فیصد کمی کی گئی ہے، جبکہ راولپنڈی میں سولہ رمضان دسترخوان قائم کیے گئے ہیں جن میں سے سات ہسپتالوں میں کام کر رہے ہیں۔ اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کی شکایات کے باوجود حکومت کی جانب سے قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف محکمے مربوط انداز میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔
اب تک ڈیڑھ سو سے زائد دکانیں سیل کی جا چکی ہیں اور ایک سو پچھتر سے زیادہ گراں فروشوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ راولپنڈی میں چودہ مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔ یہ حقائق وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی سلمیٰ بٹ کے راولپنڈی دورے کے موقعے پر سامنے آئے، جبکہ پنجاب حکومت گران فروشی کے خلاف سخت اقدامات اٹھا رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








