لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں صوبے کے آٹھ اہم محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا جس میں صوبائی ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لیے متعدد ہدایات جاری کی گئیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دسمبر تک صوبے بھر میں ایک ہزار ایک سو پندرہ برقی بسیں سڑکوں پر چلائی جائیں گی تاکہ شہری علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور جدید ٹرانسپورٹ کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ وہ چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے عمل کو فوری طور پر مکمل کریں۔
انہوں نے برقی بسوں کے لیے ایک یکساں ڈیزائن والے بس اسٹاپس کی منظوری بھی دی اور عوامی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلع وار شیڈول کے تحت برقی بس منصوبے کے جلد آغاز کی ہدایت کی۔
اجلاس میں سپر آٹونومس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے پر بھی ابتدائی کام شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔ مریم نواز نے ہاؤسنگ اور اربن ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ واسا کی خدمات اب پانچ سے بڑھ کر انیس شہروں تک پہنچ چکی ہیں اور رواں سال کے اختتام تک یہ دائرہ پچیس اضلاع تک پھیلایا جائے گا۔
مزید بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں اس وقت پانچ ہزار سے زائد واٹر فلٹریشن پلانٹس فعال ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ہاؤسنگ کے وزیر بلال یاسین کو ہدایت دی کہ وہ ذاتی طور پر ان پلانٹس کا معائنہ کریں اور انہیں ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی کا حصہ بنایا جائے تاکہ ہر گھر تک صاف پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ماڈل ولیج پروجیکٹ کے تحت 472 دیہاتوں میں ترقیاتی کاموں کا آغاز ہو چکا ہے، جن میں پارکس، پختہ گلیاں، نکاسی آب کے نظام اور صفائی کی جدید سہولیات شامل ہیں۔ مریم نواز نے مزید ہدایت دی کہ پلیسر گولڈ پروجیکٹ کو باضابطہ طور پر شروع کیا جائے تاکہ اس کے معاشی فوائد براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








